Thursday, 25 February 2016

مالٹے کے چھلکے
سید اعظم شاہ



اس نے برساتی اتار کرایک طرف رکھی اور بر آمدے میں آکر لان کی طرف دیکھنے لگا۔ برف باریک ہو تی جا رہی تھی۔پھر اس میں بارش کے قطرے شامل ہو گئے اوربینچ سے برف کی تہہ پھسل پھسل کر کر نیچے گر نے لگی۔مالٹے کے چھلکے سفید چادر میں سر چھپائے،چین کی نیند سو رہے تھے۔پاس ہی ایک بوتل پڑی تھی جس کے ایک تہائی حصے میں جوس اب بھی باقی تھا۔
وقت کیوں گزر جا تا ہے ؟کیا اس کے پر ہو تے ہیں؟ اگر ہیں تو کاٹے جا سکتے ہیں؟وقت کو گزرنا ہی ہے تو یا دیں ساتھ کیوں نہیں لے جا تا؟اپنے آثار با قی کیوں چھوڑ جاتا ہے؟
وہ سر جھٹک کر مڑا اور بر آمدے میں چہل قدمی کر نے لگا۔
زینب سے اس کی ملاقات آج سے سات سال پہلے ایک شادی کی تقریب میں ہو ئی تھی۔انتہائی نفیس لمحات تھے۔اس کا رجحان مذہب کی جانب زیا دہ تھا۔بات بات پہ اسلامی تعلیمات اور احکامات کے حوا لے دیتی۔اس نے پہلی نظر دیکھا تو جھٹ منہ چھپا لیا۔
’’آپ عورتوں کا احترام نہیں کرتے کیا؟ ‘‘
’’جج۔ جی.......کک کیا ہوا ؟‘‘
’’ کیا ہوا۔معلوم نہیں آپ کو؟۔غیر محرم عورت کو دیکھنا سخت گنا ہ ہے ‘‘
’’ غلطی ہو گئی‘‘۔
’’جی۔ غلطی ضرورہو ئی مگر آپ مسلسل مجھے دیکھ کر غلطی پہ غلطی کیے جا رہے ہیں‘‘۔
’’ اب جانے دیں۔اتنی بھی سختی نہیں ہے مذہب میں۔یہ عورت کی آزادی کے بھی خلاف ہے ‘‘۔
’’کیاکہا۔کیاکہا۔ذرا پھر کہنا۔آپ کو شرم نہیں آتی ایسی بات کہتے ہو ئے‘‘۔
’’کیا ہو گیا‘‘۔
’’ آپ ابھی اور اسی وقت یہاں سے اٹھ جا ئیے۔نہیں تو میں گھر کے مَردوں کو بتا دوں گی‘‘۔
’’گھر کے مَردوں کو ؟‘‘ .....وہ طنزیہ انداز میں بڑ بڑا یا اور اٹھ کر ہال سے باہر آگیا۔
یہ مذہبی لوگ اتنے شدت پسند کیوں ہو تے ہیں۔بات بات پہ جھگڑا۔اوپر سے منہ چھپا لیا۔ڈاکو لگ رہی تھی پوری۔اچھی بھلی خوبصورت عورت ہوتی ہے۔برقع اوڑھ کر چڑیل بن جا تی ہے۔تمیز نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہو تی ان میں۔
وہ گھر تو آگیا مگر زینب کاخیال اس کے ذہن پر تہہ در تہہ اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا۔غصے میں تو اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی۔صرف اگر تھوڑا سے پڑھ لکھ جا تی۔اس نے سوچا۔
زینب سے دوسر ی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ اس کی بہن کے ساتھ اس کے گھر آئی۔اسے دیکھتے ہی اس نے پھر برا سا منہ بنا لیا۔وہ اب موقع کی تاک میں تھا۔
’’صائمہ۔ان کے لیئے چائے وا ئے کا بندوبست تو کرو۔آدھا گھنٹہ ہو گیا‘‘ اسے تد بیر سوجھی۔
’’ اوہ ہاں۔زینب ۔تم ادھر ہی بیٹھو۔میں ایک منٹ میں چائے بنا کر آئی‘‘۔صائمہ شرمندہ ہو کر بولی۔
’’خالی چائے مت لے آنا۔ساتھ کچھ...........‘‘ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔تب صائمہ نے اسے کھا جا نے وا لی نظروں سے دیکھا اور وہ دل ہی دل میں ہنس کر رہ گیا۔زینب کے چہرے پر نا گواریت تھی۔مسلسل کھڑکی سے با ہر دیکھے جا رہی تھی۔
’’ محترمہ ‘‘ ا س نے مخاطب کرنا چاہا۔
’’ دیکھیں۔بہتری اسی میں ہے کہ آپ باز آجا ئیں۔میں کسی غیر محرم سے بات نہیں کرنا چاہتی ‘‘۔ وہ دھیمے اندازمیں بولی۔لہجے میں بلا کا غصہ صاف ظاہر تھا۔
’’ دد....دیکھیں‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
’’ آپ نے سنا نہیں۔میں شور مچا دوں گی۔تمہا ری بہن کو شکایت کروں گی۔گھر کے مَردوں کو بتا دوں گی‘‘۔زینب کی آواز بتدریج بلند ہوتی گئی اور اس نے کھسک جا نے میں ہی عافیت سمجھی۔
زینب کے عشق کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ وہ نہ چاہتے ہو ئے بھی نمازی ہو گیا۔چہرے پہ سیاہ،چمکیلی ڈاڑھی چھوڑ دی،ہاتھ میں تسبیح پکڑی اور مسجد سے دوستی کر لی۔اس کی پارسائی کے قصے زینب تک بھی پہنچے۔اسلامی خط و کتابت ہوئی،شادی تک بات پہنچی اور ایک دن زینب نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو زینب کو بہت اچھا لگا۔ہر وقت اسے نہلاتی دھلا تی رہتی۔اس کے لیے چھوٹی سے جالی دار ٹوپی بھی منگوالی،چھوٹی سی جائے نمازکا اہتمام ہوا،چھوٹا سے لوٹا خریدا اور چھوٹی سی تسبیح آگئی۔نام اس کا حسن رکھا۔
اب کیا تھا،جائے نماز تھی،حسن تھا،زینب تھی اور اسلامی تعلیمات تھیں۔ زینب اسے بھی ابو حسن کہنے لگی تھی۔
’’ دیکھو زینب۔یہ کیا اسے ٹوپی پہناکر ملا بنائے رکھتی ہو۔زمانہ بدل گیا مگر تمہاری سوچ نہ بدلی۔ذرا اس کے ہم عمر بچوں کو دیکھو تو۔بالکل انگریز لگتے ہیں‘‘۔ وہ کہا کرتا۔
’’ کیا کہا انگریز۔میں مر جاؤں گی مگر اپنے بچے کو انگریز نہیں بننے دوں گی۔ہاں ۔انگریزی بے شک سیکھے‘‘۔زینب کا جواب سن کر وہ بے بسی سے ہاتھ ملتا رہ جاتا تھا۔
وہ شادی کی تقریبات میں جاتا تو دوستوں کے طعنے سننا پڑتے۔
’’ لوجی۔شد ت پسند آگئے ‘‘۔
’’ یار۔بھابی کہاں ہو تی ہے۔تمہا رے سا تھ نہیں آتی کیا‘‘
’’ بہت ڈرتے ہو تم اس سے ‘‘
’’ زمانے کے ساتھ چلنا سیکھو ‘‘
یہ فقرے اس کے خیالات پر بجلی بن کر گرتے ۔اس کی الجھن بڑھ جا تی تھی۔
’’ ان سے ملو۔میری وائف ہیں ‘‘
’’ عروج۔یہ میرے دوست ہیں اکرام ‘‘
’’ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔بھابی کہاں ہیں ؟ ‘‘
’’ یہ کیا بات ہوئی۔سراسر جاہلیت ہے ‘‘
دوستوں کی گھر وا لیاں بھی اس کا مذاق اڑانے لگیں۔
’’ مجھ سے نہیں جایا جاتا ایسی تقریبات میں ۔اللہ معاف کرے ‘‘ اس کے شکوہ کر نے پر زینب ایسا ہی کورا جواب دیتی۔
بہت منفرد عورت تھی۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں سے کیڑے نکالتی۔
ایک دن حسن مالٹے کھا رہا تھا۔چھلکے فرش پر پھینکے تو زینب بہت خفا ہوئی۔
’’ بیٹا۔یہ کیا کر رہے ہو۔چھلکے اس طرح پھینکتا ہے کوئی۔تمہیں معلوم نہیں گندگی پھیلتی ہے۔صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ 
زینب نے سارے چھلکے چنے اور شاپنگ بیگ میں ڈال دیے۔
’’ کیا کرو گی ان چھلکوں کا ؟ ‘‘ اس نے عجیب سی نظروں سے زینب کو دیکھا۔
’’ اجی۔آپ کو کیا پتہ۔ایک تو انہیں اس طرح زمین پر پھینکنے سے گندگی پھیلتی ہے ،دوسرے یہ چھلکے بڑے کام کے ہوتے ہیں۔ان میں انٹی بیکٹیرل خاصیت موجود ہو تی ہے ۔جلد کے دانوں اور مہاسوں پر انہیں رگڑا جا ئے تو بہت مفید ثابت ہو تے ہیں۔ان کی انتہائی معمولی مقدار کھا نے میں شامل کریں تو خوشبو آتی ہے۔انہیں آپ پاؤڈر بنا کر کھا ئیں تو نظام انہضام بہتر ہو تاہے۔اگر آپ کو کوئی کیڑا کاٹ لے تو...................‘‘ زینب کہتی گئی اور اس نے ڈانٹ کر اسے چپ کرادیا۔مالٹے کے چھلکے،گندگی ،دانے،مہاسے،خوشبو،پاؤڈر،کیڑے،۔یہ میری بیوی کتنا بچگانہ ذہن رکھتی ہے۔وہ دل ہی دل میں اپنے نصیب کو کوس رہا تھا۔
’’ ارے ارے۔اتنی بے احتیاطی ۔جوس آدھا پی کر پھینک دیا ۔یہ رزق ہے۔اللہ جی کتنے ناراض ہو تے ہیں۔اور پھر بوتل تو ہمارے کام آتی ہے۔انسان پانی وانی ڈال کر پیتا ہے ‘‘ زینب نے حسن کو ایک بار پھر پیار سے ڈانٹا۔حسن نے جوس پینے کے بعد بوتل ایک طرف اچھال دی تھی جو فرش پر لڑھکتی ہوئی دروازے سے باہر چلی گئی ۔زینب بھاگتی بھاگتی بوتل کے پیچھے گئی اور وہ ہاتھ باندھے اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہو۔
زینب کی بچگانہ حرکات اس کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔جیون کے کچے بندھن میں تلخیاں بسیرا کر نے لگیں۔دھاگے کمزور ہو نے لگے،مارپیٹ تک نوبت آئی،تشدد ہوا مگر......زینب یہ سب کچھ برداشت کرتی گئی۔زبان سے علیحدگی کا نام بھی نہ نکلا۔
’’ کتنی ڈھیٹ عورت ہے تو ‘‘ زینب کو مارمار کر جب وہ تھک جا تا تو زبان سے یہی الفاظ نکلتے۔
’’ میں ڈھیٹ سہی۔آپ بھی تو ظلم کر تے ہیں ‘‘۔وہ کہا کر تی۔
’’ طلاق ،طلاق ،طلاق ‘‘ ایک دن اس نے زینب پر تین تلواریں چلا دیں۔گھر والوں کو اکٹھا کیا،شور شرابا ہوااور زینب کو زبردستی طلاق دے دی۔وہ کافی منت سماجت کر تی رہی ،پاؤں پڑی،واسطے دیے،قسمیں دیں مگر بندھن ٹوٹ گیا۔اکیلا حسن اس کے پاس رہ گیا۔
اس کی زندگی میں’’ ٹینا ‘‘ نام کی ایک نئی پری آگئی تھی۔چاند سا چہرا،مٹکتے گال،پتلی کمر،ملائم زلفیں،جینز،جدید ساخت کا لباس اور شوخ ادائیں۔ٹی شرٹ میں تو وہ اور بھی خوبصورت لگتی۔فیشن شو میں کیٹ واک کرتی تو اس کی دھڑکن تیز ہو جا تی تھی۔بات چل نکلی۔دو دل آپس میں ملنے لگے۔گھر والوں سے بات کی اور شادی طے ہو گئی۔
دونوں کی زندگی بڑے متوازن انداز میں آگے بڑھنے لگی۔وہ اپنی نئی شریک حیات کو اکثرتقریبات میں لے جا تا۔
’’یہ میری نئی وائف ہیں ‘‘
’’ ما شاء اللہ۔ما شاء اللہ۔یار۔تم تو واقعی خوش قسمت ہو‘‘ اس کے دوستوں کی نگاہیں ٹینا کا طواف کر نے لگتیں اور وہ شرما کر نظریں جھکا لیتی تھی۔
ٹینا فیشن شو سے بہت کمالیتی تھی۔اسے یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا۔دونوں میں پھرپور ہم آہنگی 

تھی ۔شادی کا نیا بندھن ڈھیروں خوشیاں لے کر آیا اورزندگی پوری رفتار سے آگے بڑھنے لگی۔
آج صبح سے برف باری ہو رہی تھی۔سہانے موسم سے لطف اندوز ہو نے کے لیے اس نے ٹینا اورحسن کو ساتھ لیا اور تینوں گھومنے پھرنے چلے گئے۔دن کا قیام ایک ہوٹل میں کیا۔کھانا کھا نے کے بعد وہ ہوٹل کے لان میں آگئے۔پتے پتے سے رومانیت چھلک رہی تھی۔وہ بینچ پر بیٹھے مزے مزے کی باتیں کر نے لگے۔حسن برف کے ساتھ کھیلنے لگا۔ایک ایک پل حسین لگنے لگا تھا۔
’’ سنو۔مالٹے اور جوس لے آؤ‘‘ ٹینا نے بیرے کو آواز دی۔
’’ ٹینا۔مجھے تمہارا فیشن شو میں جا نا بہت اچھا لگتا ہے ‘‘
’’ اکرام۔اس کے بغیر چارہ بھی تو نہیں۔زمانہ بدل گیا ہے۔اب میں گھر بیٹھ کر چرخہ تونہیں گھما سکتی ‘‘ ٹینا نے ہنس کر کہا اور دونوں کے قہقہوں سے فضا گونج اٹھی۔
’’ ٹینا ۔ایک بات پوچھو ں ، برا تو نہیں مناؤ گی ‘‘۔
’’ ایسی کیا بات ہے ‘‘ ٹینا نے چونک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’ اس دن فیشن شو میں تم ایک لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔بہت دیر تک۔مجھے اچھا نہیں لگا ‘‘ اس نے رک رک کر کہا۔
’’ کیا مطلب۔اب میرے باتیں کر نے پہ بھی پابندی ہے کیا۔وہ میرا دوست ہے۔میں اس کے ساتھ اکثر گھومنے پھرنے بھی جا تی ہوں۔ہم محبت کی حد تک ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ‘‘۔ ٹینا مالٹے کھاتے ہو ئے ناراض ہو کر بولی۔
’’ کک ...کیا۔ٹینا۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو ‘‘۔
’’ جی۔میں یہی کہہ رہی ہوں۔مجھے اپنی زندگی خودجینے کا اختیارہے‘‘۔ٹینانے اطمینان بھرے لہجے کہا اور جوس پینے لگی۔
’’ تو شادی میرے ساتھ کیوں کی ‘‘ وہ روہانسا ہو کر بولا۔
’’ ہاں تو شادی کا یہ مطلب ہے کہ میں تمہا ری غلام ہو گئی ؟ ‘‘ ٹینا نے غصے میں جوس آدھا چھوڑ کر بوتل پھینک دی اور اٹھ کر ہوٹل کے بر آمدے کی طرف چل دی۔وہ چند لمحے بت بنا ٹینا کو دیکھتا رہا۔پھربوجھل قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے ہو لیا اور بر آمدے میں آکر کھڑا ہو گیا۔
برفبا ری اب ہلکی بارش میں تبدیل ہو گئی تھی۔اس نے حسن کو دیکھا جو تیز تیز قدموں سے بینچ کی طرف جا رہا تھا ۔ پاس پہنچتے ہی حسن نے زمین پر پڑے مالٹے کے چھلکے اورجوس کی بوتل اٹھائی۔پھر دوڑتا دوڑتا اس کی طرف آیا۔
’’ ابو ابو۔امی کہا کرتی تھیں کہ مالٹے کے چھلکے اور جوس کی بوتل اس طرح نہیں پھینکا کرتے ‘‘۔ حسن نے سانس درست کر نے کے بعد چلا چلا کر کہا۔ لہجے میں معصومیت تھی۔

2 comments:

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  2. سید اعظم شاہ کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے ۔ وہ افسانہ نگاری کے علاوہ شعبہ صحافت سے بھی منسلک ہیں ۔

    ReplyDelete