Thursday, 25 February 2016

مالٹے کے چھلکے
سید اعظم شاہ



اس نے برساتی اتار کرایک طرف رکھی اور بر آمدے میں آکر لان کی طرف دیکھنے لگا۔ برف باریک ہو تی جا رہی تھی۔پھر اس میں بارش کے قطرے شامل ہو گئے اوربینچ سے برف کی تہہ پھسل پھسل کر کر نیچے گر نے لگی۔مالٹے کے چھلکے سفید چادر میں سر چھپائے،چین کی نیند سو رہے تھے۔پاس ہی ایک بوتل پڑی تھی جس کے ایک تہائی حصے میں جوس اب بھی باقی تھا۔
وقت کیوں گزر جا تا ہے ؟کیا اس کے پر ہو تے ہیں؟ اگر ہیں تو کاٹے جا سکتے ہیں؟وقت کو گزرنا ہی ہے تو یا دیں ساتھ کیوں نہیں لے جا تا؟اپنے آثار با قی کیوں چھوڑ جاتا ہے؟
وہ سر جھٹک کر مڑا اور بر آمدے میں چہل قدمی کر نے لگا۔
زینب سے اس کی ملاقات آج سے سات سال پہلے ایک شادی کی تقریب میں ہو ئی تھی۔انتہائی نفیس لمحات تھے۔اس کا رجحان مذہب کی جانب زیا دہ تھا۔بات بات پہ اسلامی تعلیمات اور احکامات کے حوا لے دیتی۔اس نے پہلی نظر دیکھا تو جھٹ منہ چھپا لیا۔
’’آپ عورتوں کا احترام نہیں کرتے کیا؟ ‘‘
’’جج۔ جی.......کک کیا ہوا ؟‘‘
’’ کیا ہوا۔معلوم نہیں آپ کو؟۔غیر محرم عورت کو دیکھنا سخت گنا ہ ہے ‘‘
’’ غلطی ہو گئی‘‘۔
’’جی۔ غلطی ضرورہو ئی مگر آپ مسلسل مجھے دیکھ کر غلطی پہ غلطی کیے جا رہے ہیں‘‘۔
’’ اب جانے دیں۔اتنی بھی سختی نہیں ہے مذہب میں۔یہ عورت کی آزادی کے بھی خلاف ہے ‘‘۔
’’کیاکہا۔کیاکہا۔ذرا پھر کہنا۔آپ کو شرم نہیں آتی ایسی بات کہتے ہو ئے‘‘۔
’’کیا ہو گیا‘‘۔
’’ آپ ابھی اور اسی وقت یہاں سے اٹھ جا ئیے۔نہیں تو میں گھر کے مَردوں کو بتا دوں گی‘‘۔
’’گھر کے مَردوں کو ؟‘‘ .....وہ طنزیہ انداز میں بڑ بڑا یا اور اٹھ کر ہال سے باہر آگیا۔
یہ مذہبی لوگ اتنے شدت پسند کیوں ہو تے ہیں۔بات بات پہ جھگڑا۔اوپر سے منہ چھپا لیا۔ڈاکو لگ رہی تھی پوری۔اچھی بھلی خوبصورت عورت ہوتی ہے۔برقع اوڑھ کر چڑیل بن جا تی ہے۔تمیز نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہو تی ان میں۔
وہ گھر تو آگیا مگر زینب کاخیال اس کے ذہن پر تہہ در تہہ اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا۔غصے میں تو اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی۔صرف اگر تھوڑا سے پڑھ لکھ جا تی۔اس نے سوچا۔
زینب سے دوسر ی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ اس کی بہن کے ساتھ اس کے گھر آئی۔اسے دیکھتے ہی اس نے پھر برا سا منہ بنا لیا۔وہ اب موقع کی تاک میں تھا۔
’’صائمہ۔ان کے لیئے چائے وا ئے کا بندوبست تو کرو۔آدھا گھنٹہ ہو گیا‘‘ اسے تد بیر سوجھی۔
’’ اوہ ہاں۔زینب ۔تم ادھر ہی بیٹھو۔میں ایک منٹ میں چائے بنا کر آئی‘‘۔صائمہ شرمندہ ہو کر بولی۔
’’خالی چائے مت لے آنا۔ساتھ کچھ...........‘‘ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔تب صائمہ نے اسے کھا جا نے وا لی نظروں سے دیکھا اور وہ دل ہی دل میں ہنس کر رہ گیا۔زینب کے چہرے پر نا گواریت تھی۔مسلسل کھڑکی سے با ہر دیکھے جا رہی تھی۔
’’ محترمہ ‘‘ ا س نے مخاطب کرنا چاہا۔
’’ دیکھیں۔بہتری اسی میں ہے کہ آپ باز آجا ئیں۔میں کسی غیر محرم سے بات نہیں کرنا چاہتی ‘‘۔ وہ دھیمے اندازمیں بولی۔لہجے میں بلا کا غصہ صاف ظاہر تھا۔
’’ دد....دیکھیں‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
’’ آپ نے سنا نہیں۔میں شور مچا دوں گی۔تمہا ری بہن کو شکایت کروں گی۔گھر کے مَردوں کو بتا دوں گی‘‘۔زینب کی آواز بتدریج بلند ہوتی گئی اور اس نے کھسک جا نے میں ہی عافیت سمجھی۔
زینب کے عشق کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ وہ نہ چاہتے ہو ئے بھی نمازی ہو گیا۔چہرے پہ سیاہ،چمکیلی ڈاڑھی چھوڑ دی،ہاتھ میں تسبیح پکڑی اور مسجد سے دوستی کر لی۔اس کی پارسائی کے قصے زینب تک بھی پہنچے۔اسلامی خط و کتابت ہوئی،شادی تک بات پہنچی اور ایک دن زینب نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو زینب کو بہت اچھا لگا۔ہر وقت اسے نہلاتی دھلا تی رہتی۔اس کے لیے چھوٹی سے جالی دار ٹوپی بھی منگوالی،چھوٹی سی جائے نمازکا اہتمام ہوا،چھوٹا سے لوٹا خریدا اور چھوٹی سی تسبیح آگئی۔نام اس کا حسن رکھا۔
اب کیا تھا،جائے نماز تھی،حسن تھا،زینب تھی اور اسلامی تعلیمات تھیں۔ زینب اسے بھی ابو حسن کہنے لگی تھی۔
’’ دیکھو زینب۔یہ کیا اسے ٹوپی پہناکر ملا بنائے رکھتی ہو۔زمانہ بدل گیا مگر تمہاری سوچ نہ بدلی۔ذرا اس کے ہم عمر بچوں کو دیکھو تو۔بالکل انگریز لگتے ہیں‘‘۔ وہ کہا کرتا۔
’’ کیا کہا انگریز۔میں مر جاؤں گی مگر اپنے بچے کو انگریز نہیں بننے دوں گی۔ہاں ۔انگریزی بے شک سیکھے‘‘۔زینب کا جواب سن کر وہ بے بسی سے ہاتھ ملتا رہ جاتا تھا۔
وہ شادی کی تقریبات میں جاتا تو دوستوں کے طعنے سننا پڑتے۔
’’ لوجی۔شد ت پسند آگئے ‘‘۔
’’ یار۔بھابی کہاں ہو تی ہے۔تمہا رے سا تھ نہیں آتی کیا‘‘
’’ بہت ڈرتے ہو تم اس سے ‘‘
’’ زمانے کے ساتھ چلنا سیکھو ‘‘
یہ فقرے اس کے خیالات پر بجلی بن کر گرتے ۔اس کی الجھن بڑھ جا تی تھی۔
’’ ان سے ملو۔میری وائف ہیں ‘‘
’’ عروج۔یہ میرے دوست ہیں اکرام ‘‘
’’ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔بھابی کہاں ہیں ؟ ‘‘
’’ یہ کیا بات ہوئی۔سراسر جاہلیت ہے ‘‘
دوستوں کی گھر وا لیاں بھی اس کا مذاق اڑانے لگیں۔
’’ مجھ سے نہیں جایا جاتا ایسی تقریبات میں ۔اللہ معاف کرے ‘‘ اس کے شکوہ کر نے پر زینب ایسا ہی کورا جواب دیتی۔
بہت منفرد عورت تھی۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں سے کیڑے نکالتی۔
ایک دن حسن مالٹے کھا رہا تھا۔چھلکے فرش پر پھینکے تو زینب بہت خفا ہوئی۔
’’ بیٹا۔یہ کیا کر رہے ہو۔چھلکے اس طرح پھینکتا ہے کوئی۔تمہیں معلوم نہیں گندگی پھیلتی ہے۔صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ 
زینب نے سارے چھلکے چنے اور شاپنگ بیگ میں ڈال دیے۔
’’ کیا کرو گی ان چھلکوں کا ؟ ‘‘ اس نے عجیب سی نظروں سے زینب کو دیکھا۔
’’ اجی۔آپ کو کیا پتہ۔ایک تو انہیں اس طرح زمین پر پھینکنے سے گندگی پھیلتی ہے ،دوسرے یہ چھلکے بڑے کام کے ہوتے ہیں۔ان میں انٹی بیکٹیرل خاصیت موجود ہو تی ہے ۔جلد کے دانوں اور مہاسوں پر انہیں رگڑا جا ئے تو بہت مفید ثابت ہو تے ہیں۔ان کی انتہائی معمولی مقدار کھا نے میں شامل کریں تو خوشبو آتی ہے۔انہیں آپ پاؤڈر بنا کر کھا ئیں تو نظام انہضام بہتر ہو تاہے۔اگر آپ کو کوئی کیڑا کاٹ لے تو...................‘‘ زینب کہتی گئی اور اس نے ڈانٹ کر اسے چپ کرادیا۔مالٹے کے چھلکے،گندگی ،دانے،مہاسے،خوشبو،پاؤڈر،کیڑے،۔یہ میری بیوی کتنا بچگانہ ذہن رکھتی ہے۔وہ دل ہی دل میں اپنے نصیب کو کوس رہا تھا۔
’’ ارے ارے۔اتنی بے احتیاطی ۔جوس آدھا پی کر پھینک دیا ۔یہ رزق ہے۔اللہ جی کتنے ناراض ہو تے ہیں۔اور پھر بوتل تو ہمارے کام آتی ہے۔انسان پانی وانی ڈال کر پیتا ہے ‘‘ زینب نے حسن کو ایک بار پھر پیار سے ڈانٹا۔حسن نے جوس پینے کے بعد بوتل ایک طرف اچھال دی تھی جو فرش پر لڑھکتی ہوئی دروازے سے باہر چلی گئی ۔زینب بھاگتی بھاگتی بوتل کے پیچھے گئی اور وہ ہاتھ باندھے اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہو۔
زینب کی بچگانہ حرکات اس کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔جیون کے کچے بندھن میں تلخیاں بسیرا کر نے لگیں۔دھاگے کمزور ہو نے لگے،مارپیٹ تک نوبت آئی،تشدد ہوا مگر......زینب یہ سب کچھ برداشت کرتی گئی۔زبان سے علیحدگی کا نام بھی نہ نکلا۔
’’ کتنی ڈھیٹ عورت ہے تو ‘‘ زینب کو مارمار کر جب وہ تھک جا تا تو زبان سے یہی الفاظ نکلتے۔
’’ میں ڈھیٹ سہی۔آپ بھی تو ظلم کر تے ہیں ‘‘۔وہ کہا کر تی۔
’’ طلاق ،طلاق ،طلاق ‘‘ ایک دن اس نے زینب پر تین تلواریں چلا دیں۔گھر والوں کو اکٹھا کیا،شور شرابا ہوااور زینب کو زبردستی طلاق دے دی۔وہ کافی منت سماجت کر تی رہی ،پاؤں پڑی،واسطے دیے،قسمیں دیں مگر بندھن ٹوٹ گیا۔اکیلا حسن اس کے پاس رہ گیا۔
اس کی زندگی میں’’ ٹینا ‘‘ نام کی ایک نئی پری آگئی تھی۔چاند سا چہرا،مٹکتے گال،پتلی کمر،ملائم زلفیں،جینز،جدید ساخت کا لباس اور شوخ ادائیں۔ٹی شرٹ میں تو وہ اور بھی خوبصورت لگتی۔فیشن شو میں کیٹ واک کرتی تو اس کی دھڑکن تیز ہو جا تی تھی۔بات چل نکلی۔دو دل آپس میں ملنے لگے۔گھر والوں سے بات کی اور شادی طے ہو گئی۔
دونوں کی زندگی بڑے متوازن انداز میں آگے بڑھنے لگی۔وہ اپنی نئی شریک حیات کو اکثرتقریبات میں لے جا تا۔
’’یہ میری نئی وائف ہیں ‘‘
’’ ما شاء اللہ۔ما شاء اللہ۔یار۔تم تو واقعی خوش قسمت ہو‘‘ اس کے دوستوں کی نگاہیں ٹینا کا طواف کر نے لگتیں اور وہ شرما کر نظریں جھکا لیتی تھی۔
ٹینا فیشن شو سے بہت کمالیتی تھی۔اسے یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا۔دونوں میں پھرپور ہم آہنگی 

تھی ۔شادی کا نیا بندھن ڈھیروں خوشیاں لے کر آیا اورزندگی پوری رفتار سے آگے بڑھنے لگی۔
آج صبح سے برف باری ہو رہی تھی۔سہانے موسم سے لطف اندوز ہو نے کے لیے اس نے ٹینا اورحسن کو ساتھ لیا اور تینوں گھومنے پھرنے چلے گئے۔دن کا قیام ایک ہوٹل میں کیا۔کھانا کھا نے کے بعد وہ ہوٹل کے لان میں آگئے۔پتے پتے سے رومانیت چھلک رہی تھی۔وہ بینچ پر بیٹھے مزے مزے کی باتیں کر نے لگے۔حسن برف کے ساتھ کھیلنے لگا۔ایک ایک پل حسین لگنے لگا تھا۔
’’ سنو۔مالٹے اور جوس لے آؤ‘‘ ٹینا نے بیرے کو آواز دی۔
’’ ٹینا۔مجھے تمہارا فیشن شو میں جا نا بہت اچھا لگتا ہے ‘‘
’’ اکرام۔اس کے بغیر چارہ بھی تو نہیں۔زمانہ بدل گیا ہے۔اب میں گھر بیٹھ کر چرخہ تونہیں گھما سکتی ‘‘ ٹینا نے ہنس کر کہا اور دونوں کے قہقہوں سے فضا گونج اٹھی۔
’’ ٹینا ۔ایک بات پوچھو ں ، برا تو نہیں مناؤ گی ‘‘۔
’’ ایسی کیا بات ہے ‘‘ ٹینا نے چونک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’ اس دن فیشن شو میں تم ایک لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔بہت دیر تک۔مجھے اچھا نہیں لگا ‘‘ اس نے رک رک کر کہا۔
’’ کیا مطلب۔اب میرے باتیں کر نے پہ بھی پابندی ہے کیا۔وہ میرا دوست ہے۔میں اس کے ساتھ اکثر گھومنے پھرنے بھی جا تی ہوں۔ہم محبت کی حد تک ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ‘‘۔ ٹینا مالٹے کھاتے ہو ئے ناراض ہو کر بولی۔
’’ کک ...کیا۔ٹینا۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو ‘‘۔
’’ جی۔میں یہی کہہ رہی ہوں۔مجھے اپنی زندگی خودجینے کا اختیارہے‘‘۔ٹینانے اطمینان بھرے لہجے کہا اور جوس پینے لگی۔
’’ تو شادی میرے ساتھ کیوں کی ‘‘ وہ روہانسا ہو کر بولا۔
’’ ہاں تو شادی کا یہ مطلب ہے کہ میں تمہا ری غلام ہو گئی ؟ ‘‘ ٹینا نے غصے میں جوس آدھا چھوڑ کر بوتل پھینک دی اور اٹھ کر ہوٹل کے بر آمدے کی طرف چل دی۔وہ چند لمحے بت بنا ٹینا کو دیکھتا رہا۔پھربوجھل قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے ہو لیا اور بر آمدے میں آکر کھڑا ہو گیا۔
برفبا ری اب ہلکی بارش میں تبدیل ہو گئی تھی۔اس نے حسن کو دیکھا جو تیز تیز قدموں سے بینچ کی طرف جا رہا تھا ۔ پاس پہنچتے ہی حسن نے زمین پر پڑے مالٹے کے چھلکے اورجوس کی بوتل اٹھائی۔پھر دوڑتا دوڑتا اس کی طرف آیا۔
’’ ابو ابو۔امی کہا کرتی تھیں کہ مالٹے کے چھلکے اور جوس کی بوتل اس طرح نہیں پھینکا کرتے ‘‘۔ حسن نے سانس درست کر نے کے بعد چلا چلا کر کہا۔ لہجے میں معصومیت تھی۔


بلائیں

سید اعظم شاہ

جب سے فضلو کو ٹائیفائیڈ ہوا، وہ ایک چلتی پھِرتی لاش بن گیا تھا ۔ گال اس حد تک دھنس چکے تھےکہ ان میں چڑیاں باآسانی گھونسلا بنا کر انڈے دے سکتی تھیں ۔ آنکھوں کی جگہ سیاہ حلقے دکھائی دے رہے تھے ۔ جسم میں گوشت تھا ہی نہیں ۔ محض جلد ہی تھی جس کے نیچے نیلی رَگوں کا اُبھار اور ہڈیوں کے جوڑ اس کے وجود کو پنجرہ بنائے ہوئے تھے ۔ سر کے بال اس قدر گَرد سے اَٹے اور بے ترتیب تھے جیسے ا ن میں زوردار بم دھماکا کیا گیاہو ۔ راہ چلتے اس کی آستینیں جھول رہی ہوتی تھیں ۔ وہ کپڑے پہنتا تو ایسے معلوم ہوتا جیسے کوئی قمیص ہے ، جسے سہارا دینے والا کوئی نہیں ، بس ہوا کے دوش پہ اُڑے ہی جارہی ہے ۔ کمان کی طرح جُھکی کمر نے وقت سے پہلے اسے بابا بنا دیا تھا ۔ اِتنا لاغر کہ بعض اوقات اپنے آپ پر بھی رحم آتا ۔ کرتا بھی کیا؟ بیوی کے ساتھ ساتھ ان پانچ بلائوں کے منہ میں بھی تو کچھ نہ کچھ ٹھونسنا تھا ۔ وہ پانچوں بول تو کم ہی سکتے تھے مگر روٹی کا لفظ انہیں حفظ ہو چکا تھا ۔ گھر میں اکثر فاقے ہوتی اور پانچ کی پانچ بانسریاں بیک وقت آسمان سر پہ اُٹھالیتی تھیں ۔ 
" ریڑھی لگا لو ۔ کب تک تجھے پالتی رہوں گی ؟ پہاڑ توڑنے اور کھدا ئی کرنے سے تو رہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا تنگ آکر اسے بُری طرح کوستی ۔
فضلو کا بس چلتا تو ایک ہی تھپڑ رسید کرکے ذلیخا کی تیز طراری دور کردیتامگر ایسا وہ کس منہ سے کرتا ؟ گھر کی دال روٹی ذلیخا کے پیسوں سے چل رہی تھی ۔ جاگیردارنی کا بھلا کہ ماہوار تنخواہ کے علاوہ ذلیخا کو پائوں دابنے کے عوض بھی کچھ نہ کچھ دے دیتی ۔ کبھی کبھی اشیائے خوردنی بھی مل جاتیں ۔ اسی پہ گزر بَسر ہورہا تھا ۔
گائوں میں قصے مشہور ہوگئے، فضلو بیوی کی کھارہا ہے ۔ اب تو اس کا نام بھی نکما رکھ دیا گیا تھا ۔ رفتہ رفتہ وہ گائوں کی تمام باتونی عورتوں کا موضوعِ بحث بن گیا ۔ بیاہ ہو یا ماتم، جہاں تین چار اِکٹھی ہوتیں، لازماََ اِس کا تذکرہ چِھڑتا تھا ۔ ایک عورت جب نمکین لہجے میں فضلو کی کاہلی، سُستی اور بے غیرتی کی داستان سناتی تو ساتھی عورتیں کانوں کو ہاتھ لگاتیں ۔ 
" توبہ توبہ ۔ خدا ایسا شوہر کسی کو نہ دے ۔ اب تنا بھی تو بیمار نہیں کہ ہلکا پُھلکا ذریعہ معاش بھی نہ ڈھونڈ سکے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اجی بس نہ پوچھو ۔ چارپائی پہ جو گِراتو انتظار کرتی ہوں، اب اُٹھا کہ اب اُٹھا ۔ اِسے تو لیٹنے سے فُرصت نہیں ملتی ۔ جو ملتا ہے ، وہ پانچ بلائیں اِتنا بڑا منہ کھولتی ہیں کہ برکت ہی اُٹھ جاتی ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا ہر محفل میں جب رو کر کہتی تو استغفار کا وِرد ہونے لگتا ۔
اکثر راتیں بھوکے پیٹ کٹتی تھیں ۔ پانچوں کی زبان پر روٹی کا سوال اصرار میں بدلنے لگتا ۔ پِھر اس میں احتجاج کا عنصر آجاتا ۔ ایک دن جب تین سالہ عبداللہ " روٹی ،روٹی " کی صدا لگا رہا تھا تو ذلیخا نے طیش میں آکر اسے اُٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ۔ تب وہ ایک ہفتہ چارپائی سے اُٹھ نہیں پایا تھا ۔ چارسالہ دلدار کا تو یکبارگی اپنے بھاری بھرکم ہاتھوں سے گلا دبوچ ڈالا ۔ اس کی آنکھیں باہر ابل پڑیں، زبان تھوک اُگلنے لگی تھی ۔ قریب تھا کہ مرجاتا، فضلو نے مداخلت کرڈالی ۔ پانچ سالہ اکرام کو ایک دن چُھری لگنے کوتھی کہ فضلو پِھر بیچ میں آگیا ۔ رہ گئے چھے سالہ اسماعیل اور آٹھ سالہ احسان تو ان کی کمر پر بھی پھوڑوں کی شکل میں چھڑیوں کے نشانات تھے ۔ 
" کم بخت ۔ جان سے ماڈالنا چاہتی ہے ا نہیں کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو التجا آمیز نظروں سے ذلیخا کو دیکھتا ۔ وہ غصے میں آکر روہانسا ہوجاتا تھا ۔ 
" ہاں ہاں ۔ ماراڈالوں گی ایک دن ان سب کو جان سے ۔ ٹھیکہ نہیں لے رکھا میں نے " ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا جل بُھن کر کہتی ۔
رات جب پُورا گائوں نیند میں ڈُُوبا ہوتا، فضلو تخیل کی وادیوں میں غرق ہوجاتا ۔ کئی دفعہ خیال آیا چھت سے کُود کر خودکشی کرلے ، زہر پی لے یا پھر ذلیخا کی وہ سبزی والی چُھری اُٹھا کر چُپکے سے سینے میں اُتار دے ۔ وہ بھی کیا دن تھے جب وہ ہٹا کٹا ،توانا مزدور تھا ۔ دن کو پہاڑ کھودتا، کانوں میں گُھستا اور شام کو پسینے سے تَر پیشانی لیے گھر آتا تو ذلیخا " ابا آگئے " کا اعلان کرتی ۔ بچے دوڑے دوڑے اس کی گود میں آجاتے تھے ۔ فضلو باری ناری ان سب کو چُومتا ۔ وہ اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتے ۔ لال نوٹ ذلیخا کو تھماتا تو وہ پنکھا ہِلا کر اس کا پسینہ خشک کرتی ۔ پل بھر میں تازہ سالن ، گرم گرم چپاتیاں آجاتیں ، ساتھ ٹھنڈا پانی بھی ہوتا ۔ کھانا ختم کرچُکتا تو ذلیخا اس کی بانہوں میں آجاتی ۔ وہ اسے ڈھیروں پیار کرتا ، اس کی زُلفوں سے کھیلتا ۔ ذلیخا کی نگاہیں حیاکی لالی سے جُھک جاتیں ۔ 
انسان کی زندگی بھی ایک ٹائیفائیڈ ہے ۔ لاکھ علاج کرائیں، مرض بڑھتا جاتا ہے ۔ مَر کر ہی جان چھوٹتی ہے ۔ 
" کیوں نہ اسماعیل کو سائیں کی خدمت پر وقف کردوں ۔ مہینے کے مہینے پیسے آئیں گے، کھانا بھی وہیں کھالیا کرے گا " ۔۔۔۔۔ فضلو نے سوچا ۔ 
سائیں کے اس گائوں میں بڑے چرچے تھے ۔ گائوں کا جو شخص اپنے بچون کو پالنے ٌپوسنے سے قاصر ہوتا، سائیں کی خدمت میں حاضر کردیتا ۔ وہ اسے ملازم رکھ لیتا، باٌپ کو ماہوار معاوضہ ملتا جسے تنخواہ کا نام دیا جاتا تھا ۔ سائیں کے ملازم کبھی کھیتوں میں کسانوں کے ساتھ ہوتے، کبھی گھوڑوں کے آگے چارہ ڈالتے ۔ کچھ نہ ہوتا توسارا دن سائیں کے محل کی دیواریں رگڑ گڑ کر انہیں آئینہ بناتے ۔ کوئی محل سے بھاگنے کی سعی کرتا تو سائیں اس کے پیچھے جاسوس کُتے لگا دیتا تھا ۔ بھگوڑا جس گھر میں چُھپتا، برآمد ہوجاتا ۔ 
" دیکھو ذلیخا ۔ میں احسان کو بھی کرمُو اُستاد کے ساتھ کنڈیکٹر لگا دوں گا ۔ بس کی سیر بھی کرے گا، روٹی بھی کھانے کو ملے گی ۔ کچھ نہ کچھ گھر بھی لے آیا کرے گا ۔ اور اسماعیل کو سائیں کے محل میں بھلا روٹی کی کیا کمی ہوگی ؟ فروٹ کھائے گا فروٹ ۔ اتنا موٹا تازہ ہوگا کہ مائیں بھی ارمان کریں گی، کاش وہ اُن کا بیٹا ہوتا " ۔ فضلو کہتا گیا ۔
" کاش ایسا ہو " ۔۔۔۔۔۔ ذلیخا نے سرد آہ بھری ۔
" احسان ، اسماعیل ۔۔۔۔ کہاں مرگئے ۔ اِدھر آئو ذرا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نے بلند آواز میں انہیں پکارا ۔ دونون جھٹ آنمودار ہوئے ۔
" کیا ہے ابا ۔ روٹی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یک زبان ہوکر بولے ۔ 
" آج کے بعد تم دونوں اچھے اچھے کھانے کھائو گے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اچھے اچھے کھانے ؟ وہ کیسے ابا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" تمہیں معلوم نہیں اچھے کھانے کیا ہوتے ہیں ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں ابا ۔ میں نے سلیم کو اچھے کھانے کھاتے دیکھا ہے ۔ روزانہ صبح سکول جاتے ہوئے مجھے ملتا ہے وہ ۔ ڈبے میں انڈہ، پراٹھا اور مکھن لے کر جاتا ہے ۔ سکول سے چھٹی کے وقت دُکان سے چاٹ بھی کھاتا ہے ، جوس بھی پیتا ہے ۔ گھر آتا ہے تو امی اسے کباب کھلاتی ہے ۔ اور۔۔۔۔۔۔ اور " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل دیوانہ وار کہتا جا رہا تھا کہ ذلیخا نے ٹوکا :
" تو اب تجھے بھی ہم کباب کھلائیں کیا ؟ دیکھے اپنے صاحبزادے کے نخرے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فضلو سے مخاطب ہوئی ۔
" بیٹا یہ سب کچھ تمہیں ملے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نےسنی ان سی کرتے ہوئے سلسلہ تکلم دوبارہ جوڑا ۔ 
" سچ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی سے اُچھلے ۔
" ہاں سچ ۔ لیکن تمہیں سائیں کے پاس کام کرنا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" نہیں ابا ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں مارتا ہے " ۔۔۔۔۔۔ 
" نہیں مارے گا تجھے ۔ میں اُسے بول دوں گا ۔ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نے طویل سانس لے کرکہا ۔
" اور میں ابا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان کے لہجے میں بھی اشتیاق اُبھر آیا ۔
" تُو کنڈیکٹری کرے گا کرمو اُستاد کے ساتھ ۔ پریشان مت ہونا ۔ اس کے پاس بھی کھانے کمی نہیں ۔ اور تو اور، بس کی سیر بھی کرے گا ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جایا کرے گا ۔ عیش کرے تُو میرے بیٹے " ۔۔۔۔۔۔ فضلو نے دونوں کو باری باری چُوما۔
" چلو نا ابا، چلونا ابا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اصرار کرنے لگے ۔
سائیں کے محل میں کیا کُچھ نظر نہیں آیا ۔ وسیع و عریض میدان میں انواع و اقسام کے فوارے لگے ہوئے تھے ۔ ہر طرف مور ناچ رہے تھے ۔ میدان کے ایک کونے میں لمبی سلاخوں والا پنجرہ تھا جس کے اندر شیر دھاڑتے دکھائی دیئے ۔ مشہور نسل کے سیاہ اور بُھورے کُتوں کی خوب خاطر مدارت ہورہی تھی ۔ کُتے ہٹے کٹے تھے ۔ کھا کھا کر یہ نوبت آگئی تھی کہ چکن روسٹ دُور سے ہی سونگھ کر چھوڑدیتے ۔ محل کی اونچی دیواریں آسمان سے باتیں کررہی تھیں ۔ بڑے بڑے لال گملوں میں سیاہ گُلاب سے کے کر ہر قسم کا پُھول کھلا ہوا تھا ۔ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو گننے کے بعد ہی معلوم ہوتا کہ ان کی تعداد دس تھی ۔ ہر طرف ملازموں کی فوج اپنے کاموں میں مصروف تھی ۔ لان میں پڑی دو کُرسیوں پر سائیں کے دوبیٹے خوش نما لباس زیبِ تن کیئے ٹانگیں میز پر پھیلائے انگریزی رسالہ دیکھ رہے تھے ۔ ان کے گِرد دس، بارہ آدمیوں کا دائرہ تھا ۔ کوئی ان کے پائوں داب رہا تھا تو کوئی ہاتھ ۔ کوئی بال کنگھی کررہا تھا اور کوئی پانی کا گلاس اُن کے منہ میں اُنڈیل رہا تھا ۔ ان کے کہنے پر کبھی ایک شے سامنے لا کر رکھی جاتی تو کبھی دوسری ۔ دو آدمی پنکھا ہلا رہے تھے ۔ جسم کے کسی حصے میں خارش ہوتی تو وہ ملازموں کو ہی کھُجانے کا کہتے ۔ 
سائیں تک پہنچتے پہنچتے فضلو کو طویل راہداریوں سے گزرنا پڑا ۔ کمرے میں داخل ہوا تو سائیں گائو تکیہ لگائے حُقہ پیتے نظر آیا ۔ ملازم پرچھائیوں کی طرح اس کے چاروں طرف منڈلا رہے تھے ۔
" کیوں رے بابے؟ آج تجھے بھی معلوم ہوگیا کہ روٹی سائیں ہی دیا کرتا ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" وو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ سس ۔۔۔۔۔۔ سائیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو گھبرا گیا ۔
" کیا نام ہے اِس چھوکرے کا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" جی ۔ اسماعیل " ۔۔۔۔۔۔
" بہت تنگ کرتا ہے نا تجھے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" جج ۔ جی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" روٹی مانگتا ہے کیا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں سائیں جی ۔۔ اِسے روٹی ہی تو چاہیئے " ۔۔۔۔۔ اس نے خوفزدہ نگاہوں سے سائیں کو دیکھا ۔
" رکھ لے یہیں ۔ روٹی ہی روٹی ملے گی ۔ ماہوار تجھے بھی تنخواہ دے دیا کروں گا " ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا اور دوبارہ حُقہ پینے میں محو ہوگیا ۔ 
فضلو اسماعیل کو چھوڑ کر کھسکنے ہی لگا تھا کہ سائیں پھر بول اُٹھا :
" بیٹے ویٹے کو بھول جا اب ۔ ایک ماہ بعد اپنی تنخواہ لے جانا ۔ اب جا " ۔۔۔۔۔ 
فضلو نے آخری نظر اسماعیل کو دیکھا ۔ اُس کی آنکھوں میں اب بھی روٹی کا سپنا تھا ۔
" ابا " ۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل کے منہ سے نکلا ۔
" اِ دھر چل چھوکرے ۔ محل کی صفائی شروع کر ۔ یہاں سب ہی تیرے ابے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ملازم نے پھنکار کر کہا اور اسماعیل کو ساتھ لےکر محل کے عقبی دروازے سے نکل گیا ۔ 
فضلو گھر آیا تو جھونپڑی کے ایک ایک سوراخ سے اسماعیل جھانکتا دکھائی دیا ۔ اگلے ہی دن وہ احسان کو بھی کرمو استاد کےپاس چھوڑ آیا ۔ احسان دن بھر سواریوں کے لیئے آوازیں لگاتا، اُستاد کی ڈانٹ سُنتا ،تھپڑکھاتا ۔ شام کو گھر لوٹتا تو پچاس روپے ساتھ لاتا ۔ فضلو جمع کرتا گیا ۔ دو ماہ بعد گائوں کے نکڑ پہ ایک سبزی کا کوکھا بھی لگا لیا ۔ ایک وقت کاکھانا تین وقت پر آگیا،دن میں ایک دفعہ چائے چل جاتی ۔ کبھی کبھی فضلو پھل لے آتا اور پُورا خاندان دائرے کی شکل میں بیٹھ کر کھاتا ۔ وہ کھوکھے سے واپس آتا تو سبزی اور پھلوں کی ٹوکریاں ساتھ لاتا ، رات بھر انہیں رگڑ رگڑ کر دھوتا رہتا ۔ ذلیخا بدل گئی ۔ اس سے ایسے شرماتی جیسے سہاگ رات کا دولہا ہو ۔
" اے بہن ۔ فضلو تو عیش کرگیا ۔ سبزی کی اچھی خاصی دکان لگا لی ۔ اوپر سے دو بیٹے دن کے دن اور مہینے کے مہنے رقم گھر لانے لگے " ۔۔۔
" ذلیخا کیا جاگیردارنی کے گھر سے تھوڑا مال لاتی ہے " ۔۔۔۔۔۔ 
" دن رات گوشت کا سالن کھاتے ہیں " ۔۔۔۔
" اور تو اور ، چائے دن میں ایک دفعہ پیتے تھے ۔ اب دو ، دو اور تین تین دفعہ چسکے لیتے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" ذلیخا تو بھینس خریدنے کے چکر میں ہے ۔ رقم جمع کررہی ہے " ۔۔۔۔۔
" کیا خبر کہاں سے مال آتا ہو ۔ آخر فضلو کے پاس سبزی کی دُکان کے لیئے پیسے کہاں سے آگئے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ضرور کہیں چوری کی ہوگی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" چوری نہ بھی کی ہو، کوئی نہ کوئی غیر قانونی دھندہ ضرور شروع کررکھا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
" کہیں منشیات نہ بیچتا ہو " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" واقعی ۔۔۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے " ۔۔۔۔۔
گائوں کی باتونی عورتوں میں پھر کھُسر پُھسر ہونے لگی تھی ۔
انہی دنوں ملک کا ایک نامور سیاستدان قتل ہوگیا ۔ تمام شہروں میں ہنگامے پُھوٹ پڑے ۔ سرکاری و نجی املاک نذرِ آتش کردی گئیں ، گولیاں چلیں اور چالیس پچاس افراد کی لاشیں گر گئیں ۔۔
رات کو ٹیلی ویژن پر ایک شخص کہہ رہا تھا :
" جمال الدین خان کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے ۔ ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے اینکر کے تاثرات کُچھ ایسے تھے :
" شہید نے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار اداکیا ۔ آج ہمارا ملک یتیم ہوگیا ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی کارکن دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ غم کی علامت کے طور پر پورے ملک میں سیاہ جھنڈے لہرا دیئے گئے ۔ ساری رات ٹیلی ویژن پر " شہید " سیاستدان کی سیاسی خدمات پر روشنی ڈالی جاتی رہی ۔ اس کے ابتدائی کیرئیر، تعلیم ، حکومتی عہدوں، سیاسی رفقا اور گھریلو زندگی پہ سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ ملک کے کونے کونے میں جمال الدین خان کا نام گونجتا رہا ۔ ہنگامے رات بھر جاری رہے ۔
صبح ہوئی تو فضلو تباہ و برباد سبزی کے کھوکھے کی راکھ صاٖف کرنے لگا ۔ احسان جلی ہوئی بس کے پاس کھڑا مالک کا انتظارکررہا تھا ۔۔ ذلیخا نے عبدا للہ اور دلدار کو تھپڑ مارے اور جاگیردارنی کے پائوں دابنے حویلی چلی گئی ۔

بگلے

سید اعظم شاہ


سمندر کے گہرے پا نیو ں کی نیلاہٹ پہ بگلوں کی اڑان ایک سفید لکیر بنا تی چلی جا رہی ہے۔نیلے آسمان پر روئی کے ٹکڑے کبھی کبھی جھک کر کروٹیں بدلتی لہروں کو چومنے لگتے ہیں۔۔دور ایک سبز چادر ہے جس پر تتلیاں اٹھکیلیاں کر رہی ہیں۔فرطِ مسرت سے سورج مکھی نکھر کر پھیل گئی ہے۔تاحد نگاہ زمین کی گود میں قدرت لیٹی ہے جس کی سحرانگیزی کے جلوے لہروں کو چیرتے ہو ئے،آبشاروں پہ پھسلتے ہو ئے ،آسمان کو چھیدتے ہو ئے ،سبزے پہ پھدکتے ہو ئے اور پہاڑوں سے سرکتے ہو ئے آنکھوں سے ٹکرا رہے ہیں۔
بگلے بہت آوارہ ہو تے ہیں!
ہاجرہ مسلسل اسے دیکھے جا رہی ہے۔ڈر ہے ذرا آہٹ ہو ئی تو نیند کا غلبہ ٹوٹ جا ئے گا۔اس کے رت جگوں میں سو ئی ہو ئی آنکھوں کے ارمان ہیں۔بالوں کی سیا ہ لٹ میں اندھیری را توں کی بے سکو نی ۔پیشانی پہ شباب کے با جود بے ترتیب جھریاں اس کی غم خواری کا پتہ دے رہی ہیں۔وہ ایک گیلے تو لیے سے اس کا سر ڈھا نپنا چا ہتی ہے اور وہ انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔بگلے پھرُ سے اڑ جا تے ہیں۔
یہ ایک نسبتاََ ٹھنڈا کمرا ہے۔صبح کے نوبجنے کو ہیں۔اکتوبر کے سورج میں ہلکی سی تپش بھی ہے اور ٹھنڈک بھی۔بستر کے ایک کو نے میں فیڈر پڑا ہے جس کے اندر دودھ کی الٹی سیدھی دھاریں ہیں اور اوپرمکھیوں کی بھنبھنا ہٹ۔ایک دوائی کی بو تل ہے ۔پاس ہی پڑی چمچ میں اتنی چکناہٹ ہے کہ چادر اس سے چپک کر رہ گئی ہے۔
آنکھوں میں رو تی ہو ئی خوشیاں لیے وہ نیند سے بیدار ہو چکا ہے۔پھرایسے بلک بلک کے رو تا ہے کہ اسے چپ کرا نے کاہر ممکن جتن را ئیگاں جا تاہے۔قے ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی ۔اسے دنیا میں آئے آج تیسرا دن ہے۔چہرے پر بے پایاں نا دا نی ،ایک سرا پا معصومیت کہ قوسِ قزح کے رنگوں میں لپٹاہے۔آنکھ لگتے ہی بگلوں کو اڑتا دیکھتا ہے۔
ہا جرہ فیڈر دو دھ سے بھر تی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوفناک گڑا گڑا ہٹ۔
زمین کے سینے پر پڑے بوجھ پل بھر میں میں الٹ پلٹ ہو جا تے ہیں۔گھر ،دکان،ہوٹل،سکول،دفتر،ہسپتال،سرائے،بازار،مارکیٹ،سڑک سب ایک دوسرے میں گڈ مد ہو چکے ۔کھیت سانپوں کی طرح رینگ رہے ہیں۔کہیں چھت نہیں تو کہیں دیوار۔اور کہیں زمین نے اپنے جبڑے کھول رکھے ہیں۔ایک جگہ مٹی کے ڈھیلے اور دوسری جگہ اینٹوں اور پتھروں کا ڈھیر۔ایک طرف ہا تھ دکھا ئی دے رہا ہے اور دوسری طرف شکستہ ٹانگیں۔گرد اور خون کی لالی کا ملاپ بھی ہے اور سسکیوں کا غبار بھی۔یہ سکول ہیں یا موہن جودڑو کے کھنڈرات؟یہ ہسپتال ہیں یا میدان جنگ میں تباہ ہونے وا لے قلعے؟ مکان کے مکان بیا بان ہیں ۔ایک قیامت صغریٰ ہے جس نے محلے کے محلے،گا ؤں کے گاؤں اور شہر کے شہراپنی لپیٹ میں لے لیے ہیں۔ہر نگاہ متلا شی ،ہر لاش پہ اپنا ہو نے کا گمان ہے۔کسی کے ہا تھ بازو آتا ہے تو کسی کے ہاتھ ٹانگ۔کسی کو دھڑ ملتا ہے تو کسی کو کانوں کی با لیاں۔سکولوں کے ملبے سے ٹفن،کتابیں،جوتے،قلم،بستے بر آمد ہو رہے ہیں۔ تباہ شدہ دفتروں سے گرد سے اٹی فائلیں نکل رہی ہیں۔سبزی منڈیوں،بازاروں میں کپڑے،ٹماٹر،چاول اور انسان بکھرے پڑے ہیں۔ہسپتالوں میں کفنوں کے انبار اور زخموں سے چور چور بدن ہیں۔انسانیت کی چیخ و پکار سے پہاڑ،پگڈ نڈیاں،جنگل اور دریا دہل کر رہ گئے ۔ آسمان کے آنسو ٹپ ٹپ زمین پر گر نے لگے ہیں۔سڑکوں پر گاڑیاں رک چکی ہیں اور زندگی بھی ٹھہر گئی ہے۔
ہاجرہ کراہ رہی ہے۔اس کا چہرہ خون آلود ہے۔بالوں کی لٹ اجڑ چکی ۔ہاتھ اور ٹانگیں اپنی نہیں رہیں۔ملبے کے ڈھیر میں دفن وہ زندگی کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔پاس ہی فیڈر ہے جو پتھروں سے کچلا جا چکا ہے۔دوائی کی بوتل ٹوٹ گئی ۔چمچ ٹیڑھی ہو چکی ہے۔وہ چیختی ہے،چلا تی ہے اور مدد کے لیے پکا رے جا رہی ہے۔ایک ساعت کے لیے مڑ کے دیکھنا چا ہتی ہے مگر سر میں سکت نہیں رہی۔جسم باغی ہو چکا ہے ' اپنے بیگانے ہیں۔یکایک اس کے کا نوں میں رو نے کی آواز پڑتی ہے مگر۔۔۔۔۔فیڈر کہاں ہے؟۔۔۔وہ ایک بار پھر مڑنا چا ہتی ہے،اس کی طرف دیکھناچا ہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے دنیا میں آئے آج تیسرا دن بھی ختم ہو نے کو ہے۔پتھروں کے بستر پہ لیٹا زارو قطاررو ئے جا رہا ہے ۔فیڈر خاموش ہے اور مامتا گونگی۔رو رو کے تھکتا ہے تو آنکھ لگ جا تی ہے۔
بگلے اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔آبشاریں اسی طرح ترو تا زہ۔بادل روئی کے ٹکڑوں کی طرح فضاء میں تیر رہے ہیں۔ہر طرف سبزہ ہے۔سورج مکھی اسی طرح حسین۔۔ماں اسے پیار سے گود میں لیتی ہے اور فیڈر سے دودھ پلا نے لگتی ہے۔اس کا فیڈر ٹوٹا ہوا نہیں ۔بالکل نیا ہے۔دوا ئی اور چکناہٹ وا لی چمچ بھی پاس ہی ہے۔مامتا اور اس کی چھوٹی چھوٹی دنیا ئیں اسی طرح خوبصورت ہیں۔بگلے اڑے چلے جا رہے ہیں۔