بلائیں
سید اعظم شاہ
جب سے فضلو کو ٹائیفائیڈ ہوا، وہ ایک چلتی پھِرتی لاش بن گیا تھا ۔ گال اس حد تک دھنس چکے تھےکہ ان میں چڑیاں باآسانی گھونسلا بنا کر انڈے دے سکتی تھیں ۔ آنکھوں کی جگہ سیاہ حلقے دکھائی دے رہے تھے ۔ جسم میں گوشت تھا ہی نہیں ۔ محض جلد ہی تھی جس کے نیچے نیلی رَگوں کا اُبھار اور ہڈیوں کے جوڑ اس کے وجود کو پنجرہ بنائے ہوئے تھے ۔ سر کے بال اس قدر گَرد سے اَٹے اور بے ترتیب تھے جیسے ا ن میں زوردار بم دھماکا کیا گیاہو ۔ راہ چلتے اس کی آستینیں جھول رہی ہوتی تھیں ۔ وہ کپڑے پہنتا تو ایسے معلوم ہوتا جیسے کوئی قمیص ہے ، جسے سہارا دینے والا کوئی نہیں ، بس ہوا کے دوش پہ اُڑے ہی جارہی ہے ۔ کمان کی طرح جُھکی کمر نے وقت سے پہلے اسے بابا بنا دیا تھا ۔ اِتنا لاغر کہ بعض اوقات اپنے آپ پر بھی رحم آتا ۔ کرتا بھی کیا؟ بیوی کے ساتھ ساتھ ان پانچ بلائوں کے منہ میں بھی تو کچھ نہ کچھ ٹھونسنا تھا ۔ وہ پانچوں بول تو کم ہی سکتے تھے مگر روٹی کا لفظ انہیں حفظ ہو چکا تھا ۔ گھر میں اکثر فاقے ہوتی اور پانچ کی پانچ بانسریاں بیک وقت آسمان سر پہ اُٹھالیتی تھیں ۔
" ریڑھی لگا لو ۔ کب تک تجھے پالتی رہوں گی ؟ پہاڑ توڑنے اور کھدا ئی کرنے سے تو رہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا تنگ آکر اسے بُری طرح کوستی ۔فضلو کا بس چلتا تو ایک ہی تھپڑ رسید کرکے ذلیخا کی تیز طراری دور کردیتامگر ایسا وہ کس منہ سے کرتا ؟ گھر کی دال روٹی ذلیخا کے پیسوں سے چل رہی تھی ۔ جاگیردارنی کا بھلا کہ ماہوار تنخواہ کے علاوہ ذلیخا کو پائوں دابنے کے عوض بھی کچھ نہ کچھ دے دیتی ۔ کبھی کبھی اشیائے خوردنی بھی مل جاتیں ۔ اسی پہ گزر بَسر ہورہا تھا ۔
گائوں میں قصے مشہور ہوگئے، فضلو بیوی کی کھارہا ہے ۔ اب تو اس کا نام بھی نکما رکھ دیا گیا تھا ۔ رفتہ رفتہ وہ گائوں کی تمام باتونی عورتوں کا موضوعِ بحث بن گیا ۔ بیاہ ہو یا ماتم، جہاں تین چار اِکٹھی ہوتیں، لازماََ اِس کا تذکرہ چِھڑتا تھا ۔ ایک عورت جب نمکین لہجے میں فضلو کی کاہلی، سُستی اور بے غیرتی کی داستان سناتی تو ساتھی عورتیں کانوں کو ہاتھ لگاتیں ۔
" توبہ توبہ ۔ خدا ایسا شوہر کسی کو نہ دے ۔ اب تنا بھی تو بیمار نہیں کہ ہلکا پُھلکا ذریعہ معاش بھی نہ ڈھونڈ سکے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اجی بس نہ پوچھو ۔ چارپائی پہ جو گِراتو انتظار کرتی ہوں، اب اُٹھا کہ اب اُٹھا ۔ اِسے تو لیٹنے سے فُرصت نہیں ملتی ۔ جو ملتا ہے ، وہ پانچ بلائیں اِتنا بڑا منہ کھولتی ہیں کہ برکت ہی اُٹھ جاتی ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا ہر محفل میں جب رو کر کہتی تو استغفار کا وِرد ہونے لگتا ۔
اکثر راتیں بھوکے پیٹ کٹتی تھیں ۔ پانچوں کی زبان پر روٹی کا سوال اصرار میں بدلنے لگتا ۔ پِھر اس میں احتجاج کا عنصر آجاتا ۔ ایک دن جب تین سالہ عبداللہ " روٹی ،روٹی " کی صدا لگا رہا تھا تو ذلیخا نے طیش میں آکر اسے اُٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ۔ تب وہ ایک ہفتہ چارپائی سے اُٹھ نہیں پایا تھا ۔ چارسالہ دلدار کا تو یکبارگی اپنے بھاری بھرکم ہاتھوں سے گلا دبوچ ڈالا ۔ اس کی آنکھیں باہر ابل پڑیں، زبان تھوک اُگلنے لگی تھی ۔ قریب تھا کہ مرجاتا، فضلو نے مداخلت کرڈالی ۔ پانچ سالہ اکرام کو ایک دن چُھری لگنے کوتھی کہ فضلو پِھر بیچ میں آگیا ۔ رہ گئے چھے سالہ اسماعیل اور آٹھ سالہ احسان تو ان کی کمر پر بھی پھوڑوں کی شکل میں چھڑیوں کے نشانات تھے ۔
" کم بخت ۔ جان سے ماڈالنا چاہتی ہے ا نہیں کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو التجا آمیز نظروں سے ذلیخا کو دیکھتا ۔ وہ غصے میں آکر روہانسا ہوجاتا تھا ۔
" ہاں ہاں ۔ ماراڈالوں گی ایک دن ان سب کو جان سے ۔ ٹھیکہ نہیں لے رکھا میں نے " ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا جل بُھن کر کہتی ۔
رات جب پُورا گائوں نیند میں ڈُُوبا ہوتا، فضلو تخیل کی وادیوں میں غرق ہوجاتا ۔ کئی دفعہ خیال آیا چھت سے کُود کر خودکشی کرلے ، زہر پی لے یا پھر ذلیخا کی وہ سبزی والی چُھری اُٹھا کر چُپکے سے سینے میں اُتار دے ۔ وہ بھی کیا دن تھے جب وہ ہٹا کٹا ،توانا مزدور تھا ۔ دن کو پہاڑ کھودتا، کانوں میں گُھستا اور شام کو پسینے سے تَر پیشانی لیے گھر آتا تو ذلیخا " ابا آگئے " کا اعلان کرتی ۔ بچے دوڑے دوڑے اس کی گود میں آجاتے تھے ۔ فضلو باری ناری ان سب کو چُومتا ۔ وہ اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتے ۔ لال نوٹ ذلیخا کو تھماتا تو وہ پنکھا ہِلا کر اس کا پسینہ خشک کرتی ۔ پل بھر میں تازہ سالن ، گرم گرم چپاتیاں آجاتیں ، ساتھ ٹھنڈا پانی بھی ہوتا ۔ کھانا ختم کرچُکتا تو ذلیخا اس کی بانہوں میں آجاتی ۔ وہ اسے ڈھیروں پیار کرتا ، اس کی زُلفوں سے کھیلتا ۔ ذلیخا کی نگاہیں حیاکی لالی سے جُھک جاتیں ۔
انسان کی زندگی بھی ایک ٹائیفائیڈ ہے ۔ لاکھ علاج کرائیں، مرض بڑھتا جاتا ہے ۔ مَر کر ہی جان چھوٹتی ہے ۔
" کیوں نہ اسماعیل کو سائیں کی خدمت پر وقف کردوں ۔ مہینے کے مہینے پیسے آئیں گے، کھانا بھی وہیں کھالیا کرے گا " ۔۔۔۔۔ فضلو نے سوچا ۔
سائیں کے اس گائوں میں بڑے چرچے تھے ۔ گائوں کا جو شخص اپنے بچون کو پالنے ٌپوسنے سے قاصر ہوتا، سائیں کی خدمت میں حاضر کردیتا ۔ وہ اسے ملازم رکھ لیتا، باٌپ کو ماہوار معاوضہ ملتا جسے تنخواہ کا نام دیا جاتا تھا ۔ سائیں کے ملازم کبھی کھیتوں میں کسانوں کے ساتھ ہوتے، کبھی گھوڑوں کے آگے چارہ ڈالتے ۔ کچھ نہ ہوتا توسارا دن سائیں کے محل کی دیواریں رگڑ گڑ کر انہیں آئینہ بناتے ۔ کوئی محل سے بھاگنے کی سعی کرتا تو سائیں اس کے پیچھے جاسوس کُتے لگا دیتا تھا ۔ بھگوڑا جس گھر میں چُھپتا، برآمد ہوجاتا ۔
" دیکھو ذلیخا ۔ میں احسان کو بھی کرمُو اُستاد کے ساتھ کنڈیکٹر لگا دوں گا ۔ بس کی سیر بھی کرے گا، روٹی بھی کھانے کو ملے گی ۔ کچھ نہ کچھ گھر بھی لے آیا کرے گا ۔ اور اسماعیل کو سائیں کے محل میں بھلا روٹی کی کیا کمی ہوگی ؟ فروٹ کھائے گا فروٹ ۔ اتنا موٹا تازہ ہوگا کہ مائیں بھی ارمان کریں گی، کاش وہ اُن کا بیٹا ہوتا " ۔ فضلو کہتا گیا ۔
" کاش ایسا ہو " ۔۔۔۔۔۔ ذلیخا نے سرد آہ بھری ۔
" احسان ، اسماعیل ۔۔۔۔ کہاں مرگئے ۔ اِدھر آئو ذرا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نے بلند آواز میں انہیں پکارا ۔ دونون جھٹ آنمودار ہوئے ۔
" کیا ہے ابا ۔ روٹی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یک زبان ہوکر بولے ۔
" آج کے بعد تم دونوں اچھے اچھے کھانے کھائو گے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اچھے اچھے کھانے ؟ وہ کیسے ابا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" تمہیں معلوم نہیں اچھے کھانے کیا ہوتے ہیں ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں ابا ۔ میں نے سلیم کو اچھے کھانے کھاتے دیکھا ہے ۔ روزانہ صبح سکول جاتے ہوئے مجھے ملتا ہے وہ ۔ ڈبے میں انڈہ، پراٹھا اور مکھن لے کر جاتا ہے ۔ سکول سے چھٹی کے وقت دُکان سے چاٹ بھی کھاتا ہے ، جوس بھی پیتا ہے ۔ گھر آتا ہے تو امی اسے کباب کھلاتی ہے ۔ اور۔۔۔۔۔۔ اور " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل دیوانہ وار کہتا جا رہا تھا کہ ذلیخا نے ٹوکا :
" تو اب تجھے بھی ہم کباب کھلائیں کیا ؟ دیکھے اپنے صاحبزادے کے نخرے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فضلو سے مخاطب ہوئی ۔
" بیٹا یہ سب کچھ تمہیں ملے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نےسنی ان سی کرتے ہوئے سلسلہ تکلم دوبارہ جوڑا ۔
" سچ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی سے اُچھلے ۔
" ہاں سچ ۔ لیکن تمہیں سائیں کے پاس کام کرنا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" نہیں ابا ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں مارتا ہے " ۔۔۔۔۔۔
" نہیں مارے گا تجھے ۔ میں اُسے بول دوں گا ۔ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نے طویل سانس لے کرکہا ۔
" اور میں ابا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان کے لہجے میں بھی اشتیاق اُبھر آیا ۔
" تُو کنڈیکٹری کرے گا کرمو اُستاد کے ساتھ ۔ پریشان مت ہونا ۔ اس کے پاس بھی کھانے کمی نہیں ۔ اور تو اور، بس کی سیر بھی کرے گا ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جایا کرے گا ۔ عیش کرے تُو میرے بیٹے " ۔۔۔۔۔۔ فضلو نے دونوں کو باری باری چُوما۔
" چلو نا ابا، چلونا ابا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اصرار کرنے لگے ۔
سائیں کے محل میں کیا کُچھ نظر نہیں آیا ۔ وسیع و عریض میدان میں انواع و اقسام کے فوارے لگے ہوئے تھے ۔ ہر طرف مور ناچ رہے تھے ۔ میدان کے ایک کونے میں لمبی سلاخوں والا پنجرہ تھا جس کے اندر شیر دھاڑتے دکھائی دیئے ۔ مشہور نسل کے سیاہ اور بُھورے کُتوں کی خوب خاطر مدارت ہورہی تھی ۔ کُتے ہٹے کٹے تھے ۔ کھا کھا کر یہ نوبت آگئی تھی کہ چکن روسٹ دُور سے ہی سونگھ کر چھوڑدیتے ۔ محل کی اونچی دیواریں آسمان سے باتیں کررہی تھیں ۔ بڑے بڑے لال گملوں میں سیاہ گُلاب سے کے کر ہر قسم کا پُھول کھلا ہوا تھا ۔ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو گننے کے بعد ہی معلوم ہوتا کہ ان کی تعداد دس تھی ۔ ہر طرف ملازموں کی فوج اپنے کاموں میں مصروف تھی ۔ لان میں پڑی دو کُرسیوں پر سائیں کے دوبیٹے خوش نما لباس زیبِ تن کیئے ٹانگیں میز پر پھیلائے انگریزی رسالہ دیکھ رہے تھے ۔ ان کے گِرد دس، بارہ آدمیوں کا دائرہ تھا ۔ کوئی ان کے پائوں داب رہا تھا تو کوئی ہاتھ ۔ کوئی بال کنگھی کررہا تھا اور کوئی پانی کا گلاس اُن کے منہ میں اُنڈیل رہا تھا ۔ ان کے کہنے پر کبھی ایک شے سامنے لا کر رکھی جاتی تو کبھی دوسری ۔ دو آدمی پنکھا ہلا رہے تھے ۔ جسم کے کسی حصے میں خارش ہوتی تو وہ ملازموں کو ہی کھُجانے کا کہتے ۔
سائیں تک پہنچتے پہنچتے فضلو کو طویل راہداریوں سے گزرنا پڑا ۔ کمرے میں داخل ہوا تو سائیں گائو تکیہ لگائے حُقہ پیتے نظر آیا ۔ ملازم پرچھائیوں کی طرح اس کے چاروں طرف منڈلا رہے تھے ۔
" کیوں رے بابے؟ آج تجھے بھی معلوم ہوگیا کہ روٹی سائیں ہی دیا کرتا ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" وو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ سس ۔۔۔۔۔۔ سائیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو گھبرا گیا ۔
" کیا نام ہے اِس چھوکرے کا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" جی ۔ اسماعیل " ۔۔۔۔۔۔
" بہت تنگ کرتا ہے نا تجھے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" جج ۔ جی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" روٹی مانگتا ہے کیا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں سائیں جی ۔۔ اِسے روٹی ہی تو چاہیئے " ۔۔۔۔۔ اس نے خوفزدہ نگاہوں سے سائیں کو دیکھا ۔
" رکھ لے یہیں ۔ روٹی ہی روٹی ملے گی ۔ ماہوار تجھے بھی تنخواہ دے دیا کروں گا " ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا اور دوبارہ حُقہ پینے میں محو ہوگیا ۔
فضلو اسماعیل کو چھوڑ کر کھسکنے ہی لگا تھا کہ سائیں پھر بول اُٹھا :
" بیٹے ویٹے کو بھول جا اب ۔ ایک ماہ بعد اپنی تنخواہ لے جانا ۔ اب جا " ۔۔۔۔۔
فضلو نے آخری نظر اسماعیل کو دیکھا ۔ اُس کی آنکھوں میں اب بھی روٹی کا سپنا تھا ۔
" ابا " ۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل کے منہ سے نکلا ۔
" اِ دھر چل چھوکرے ۔ محل کی صفائی شروع کر ۔ یہاں سب ہی تیرے ابے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ملازم نے پھنکار کر کہا اور اسماعیل کو ساتھ لےکر محل کے عقبی دروازے سے نکل گیا ۔
فضلو گھر آیا تو جھونپڑی کے ایک ایک سوراخ سے اسماعیل جھانکتا دکھائی دیا ۔ اگلے ہی دن وہ احسان کو بھی کرمو استاد کےپاس چھوڑ آیا ۔ احسان دن بھر سواریوں کے لیئے آوازیں لگاتا، اُستاد کی ڈانٹ سُنتا ،تھپڑکھاتا ۔ شام کو گھر لوٹتا تو پچاس روپے ساتھ لاتا ۔ فضلو جمع کرتا گیا ۔ دو ماہ بعد گائوں کے نکڑ پہ ایک سبزی کا کوکھا بھی لگا لیا ۔ ایک وقت کاکھانا تین وقت پر آگیا،دن میں ایک دفعہ چائے چل جاتی ۔ کبھی کبھی فضلو پھل لے آتا اور پُورا خاندان دائرے کی شکل میں بیٹھ کر کھاتا ۔ وہ کھوکھے سے واپس آتا تو سبزی اور پھلوں کی ٹوکریاں ساتھ لاتا ، رات بھر انہیں رگڑ رگڑ کر دھوتا رہتا ۔ ذلیخا بدل گئی ۔ اس سے ایسے شرماتی جیسے سہاگ رات کا دولہا ہو ۔
" اے بہن ۔ فضلو تو عیش کرگیا ۔ سبزی کی اچھی خاصی دکان لگا لی ۔ اوپر سے دو بیٹے دن کے دن اور مہینے کے مہنے رقم گھر لانے لگے " ۔۔۔
" ذلیخا کیا جاگیردارنی کے گھر سے تھوڑا مال لاتی ہے " ۔۔۔۔۔۔
" دن رات گوشت کا سالن کھاتے ہیں " ۔۔۔۔
" اور تو اور ، چائے دن میں ایک دفعہ پیتے تھے ۔ اب دو ، دو اور تین تین دفعہ چسکے لیتے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" ذلیخا تو بھینس خریدنے کے چکر میں ہے ۔ رقم جمع کررہی ہے " ۔۔۔۔۔
" کیا خبر کہاں سے مال آتا ہو ۔ آخر فضلو کے پاس سبزی کی دُکان کے لیئے پیسے کہاں سے آگئے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ضرور کہیں چوری کی ہوگی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" چوری نہ بھی کی ہو، کوئی نہ کوئی غیر قانونی دھندہ ضرور شروع کررکھا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" کہیں منشیات نہ بیچتا ہو " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" واقعی ۔۔۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے " ۔۔۔۔۔
گائوں کی باتونی عورتوں میں پھر کھُسر پُھسر ہونے لگی تھی ۔
انہی دنوں ملک کا ایک نامور سیاستدان قتل ہوگیا ۔ تمام شہروں میں ہنگامے پُھوٹ پڑے ۔ سرکاری و نجی املاک نذرِ آتش کردی گئیں ، گولیاں چلیں اور چالیس پچاس افراد کی لاشیں گر گئیں ۔۔
رات کو ٹیلی ویژن پر ایک شخص کہہ رہا تھا :
" جمال الدین خان کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے ۔ ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے اینکر کے تاثرات کُچھ ایسے تھے :
" شہید نے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار اداکیا ۔ آج ہمارا ملک یتیم ہوگیا ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی کارکن دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ غم کی علامت کے طور پر پورے ملک میں سیاہ جھنڈے لہرا دیئے گئے ۔ ساری رات ٹیلی ویژن پر " شہید " سیاستدان کی سیاسی خدمات پر روشنی ڈالی جاتی رہی ۔ اس کے ابتدائی کیرئیر، تعلیم ، حکومتی عہدوں، سیاسی رفقا اور گھریلو زندگی پہ سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ ملک کے کونے کونے میں جمال الدین خان کا نام گونجتا رہا ۔ ہنگامے رات بھر جاری رہے ۔
صبح ہوئی تو فضلو تباہ و برباد سبزی کے کھوکھے کی راکھ صاٖف کرنے لگا ۔ احسان جلی ہوئی بس کے پاس کھڑا مالک کا انتظارکررہا تھا ۔۔ ذلیخا نے عبدا للہ اور دلدار کو تھپڑ مارے اور جاگیردارنی کے پائوں دابنے حویلی چلی گئی ۔

No comments:
Post a Comment