Thursday, 9 August 2018

کونج



رات جب بیت جائے تو سورج کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے آسمان پر آخری ستارہ کتنا تنہا نظر آتا ہے! ویسے ایک بات ہے،لوگ دن کی روشنی کو کتنا پسند کرتے ہیں۔توکیا انہیں کالے آسمان پر ستاروں کا میلہ دکھائی نہیں دیتا؟ہر طرف جب گھُپ اندھیرا چھا جائے توآسمان کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ روشنی کے لیے اندھیرا بھی توضروری ہے نا!دن لاکھ اچھا سہی مگرکرن اندھیرے کے بطن سے ہی تو نکلتی ہے۔
بچپن میں ہمیں بھی راتیں اچھی لگتیں۔چھوٹے بڑے سب صحن میں چارپائی پر لیٹے آسمان پر ستارے گن رہے ہوتے۔دادی اماں آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہتیں:
’’بیٹا۔چندا ماموں اپنے بچوں کو لے کر آگئے‘‘۔۔
ہم بڑے اشتیاق سے دیکھتے۔تاحد نگاہ کالے آسمان پر چاند ستاروں کے جھرمٹ میں گھرا ہوتا۔اور پھر ہم دادی اماں کو دیکھتے، ایک نظر پورے خاندان پر دوڑاتے۔ ایسے معلوم ہوتاجیسے دادی چاند ہواور باقی سب ستارے۔ہمارا صحن ایک کالا آسمان لگتا۔
گرمیوں میں تو صحن میں ہی سو جاتے۔پاس ہی مرغیوں کا ڈربہ ہوتا۔ساری رات پھڑپھڑاہٹ کی آواز کانوں سے ٹکراتی رہتی۔کبھی کبھی کوئی بلی چھلانگ مار کر چارپائی کو عبور کرتی تو ہمارے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھنے سے چارپائی چرچرا اٹھتی۔
’’سو جاؤ بچو۔ابھی فجرکی اذان بھی نہیں ہوئی‘‘........... اچانک دادی کی نحیف آواز بلند ہوتی۔وہ نیند کی حالت میں بھی گردو نواح سے باخبر رہتی تھیں۔اور ہم اکثر ایک دوسرے سے کہتے:
’’یہ دادی سوتی نہیں کیا‘‘۔
سوتا تو چاند بھی نہیں۔ساری رات سوئے ہوئے ستاروں کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔روشنی بھی کرتا ہے۔یہ روشنی شاید ہمارے لیے اہم نہ ہولیکن اس کی قدروقیمت وہ کونج ہی بتاسکتی ہے جو ڈار سے بچھڑی ہو۔
کُونج سے یاد آیا، ہمارے گھر کے قریب ایک ندی تھی۔اُس میں کونجیں آکر نہاتیں۔ہماری دیرینہ خواہش رہی کہ ان میں سے ایک کونج کو پکڑتے۔لیکن یہ خواہش حقیقت کا رُوپ نہ دھار سکی۔ہاں۔ایک شام ایسا ہوا کہ کوئی کونج ڈار سے بچھڑ کر گرتی پڑتی ہمارے گاؤں کی عقبی جانب پگڈندی میں اُتر گئی۔غالباََ تھکن سے نڈھال ہوچکی تھی۔میں گھر کی چھت پہ کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔اگلے ہی لمحے جونی،کامی،مودی غرض جو جو زبان پر آیا، سب کو آواز دی۔
’’کیا ہوا۔ کیا ہوا‘‘............. وہ پل بھر میں آنمودار ہوئے۔
’’کونج۔کونج‘‘......... میں چلا رہا تھا۔
’’کہاں ہے‘‘.......... وہ یک زبان ہوکر بے قراری سے بولے۔اور میرے اشارہ کرنے پر ایسے پگڈ ندی کی طرح دوڑے جیسے سکول میں سومیٹر ریس کے دوران بچے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر کونج نے سب کو دوڑایا۔ایک درخت سے دوسرے درخت پہ جابیٹھتی۔بالآخر تھک ہار کر سب اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔
میں واپس گھر کی چھت پر آگیا اوررات گئے تک اس پگڈندی کو دیکھتا رہا۔آسمان پر چودھویں کا چاند چمک رہا تھا۔چاندنی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔دفعتاََ مجھے آسمان پر کونجوں کی ڈار دکھائی دی۔جب وہ پگڈندی عبور کرنے لگی تو ایک درخت سے وہی سفید کونج اڑی اور ڈار سے جاملی۔
اُس رات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ کونجیں ڈار کی شکل میں کیوں اُڑتی ہیں۔اور آسمان پر چاند کیوں چمکتا ہے۔
میں آج کل بلند و بالا عمارات سے مزین شہر میں رہتاہوں۔رات کو اتنی روشنی ہوتی ہے کہ اندھیرے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔اکثر خیال آتا ہے کہ شہر دن کی روشنی کو دوام بخشنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ہر طرف ایک نہ ختم ہونے والی چہل پہل ہے۔دمکتے چہرے ہیں۔شہنائی ہے۔گاؤں میں تو سہ پہر کے بعد چیزیں سمٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔گھنے برگد پر الو بولنے لگتے ہیں۔مکئی کی سرسراتی ہوئی فصل ساکت ہوجاتی ہے۔جھینگرساز بجانے لگتا ہے۔لوگ اذان سے پہلے گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔کچے راستوں پر چڑیلیں گشت کرنے لگتی ہیں اور درخت سو جاتے ہیں۔کم ازکم شہر اس ’’نحوست‘‘ سے پاک ہے۔نہ یہاں جھینگر ہے نہ مکئی کی فصل۔نہ آپ کوالو تنگ کرسکتا ہے نہ راستے میں کسی چڑیل سے سامنا ہوسکتا ہے۔
میری دادی کب کی جاچکیں۔ان کی قبر پر جھاڑیاں اگ چکی ہیں۔والدہ کی ٹوٹی پھوٹی قبر بھی ان کے ساتھ ہے۔والد بوڑھے ہوچکے،ٹانگیں کمزور ہوگئیں مگر لاٹھی سے آج بھی غیرت کھاتے ہیں۔بھائی میری طرح شہروں کے ہو کر رہ گئے۔کوئی دوبئی چلا گیا، کوئی امریکا کو مسکن بنا گیا۔بہنوں کی شادی ہوگئی۔ایک گھر سے کئی گھر بن گئے۔
مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب میرا اپنی باجی سے جھگڑا ہوا۔ہم چھپن چھپائی کھیل رہے تھے۔جھگڑا اس بات پر ہوا کہ میں نے بیس تک گنا ہی نہیں۔دس،گیارہ،بارہ کرکے باجی کو ڈھونڈنے چلا۔وہ ابھی چھپنے کی تیاری کرہی رہی تھی کہ میں نے ’’حملہ‘‘ کہہ کرفاتحانہ انداز میں شور مچا دیا۔
’’نہیں۔نہیں۔ یہ فاؤل ہے۔تم نے بیس تک گنا ہی نہیں‘‘...... باجی احتجاج کرنے لگیں۔ہم دونوں کا جھگڑا طول اختیار کرنے لگا تھا کہ امی نے بیچ بچاؤ کرایا۔
’’بیٹا۔تم نے بیس تک کیوں نہیں گنا؟۔ہمیشہ اصول رکھا کرومیرے بچے۔بے اصول زندگی گزارو گے تو گئے دنوں پر پچھتاؤ گے‘‘........ ان کا انداز ناصحانہ تھا۔
آخری عمر میں بیمار رہنے لگی تھیں۔
ایک رات میں امی کے ساتھ صحن میں بیٹھا ہوا تھا۔یہ ایک خوشگوار رات تھی۔سرد ہوا چلنے سے رُوح کے اندر شادیانے بج رہے تھے۔امی ٹکٹکی باندھے ستاروں سے بھرے کالے آسمان کو دیکھتی رہیں۔پھر مجھ سے مخاطب ہوئیں:
’’بیٹا! موت زندگی کی دشمن ہے‘‘۔
’’جی امی........ تو‘‘۔۔۔ مجھے جیسے کچھ نہ سمجھ آیا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہیں۔پھر طویل سانس لے کر بولیں:
’’لیکن موت ہمارا ایک ایک سانس تحمل سے گنتی ہے۔جلدی نہیں کرتی‘‘.......
’’جی امی‘‘..... میں نے نظریں جھکا کرکہا۔
صحن میں جیسے پراسرا ر خاموشی پھیل گئی۔میں نے بے اختیار خالی چارپائی کی طرف دیکھا۔یہ وہی چارپائی تھی جس پر رات کو دادی اماں بیٹھا کرتی اور پورے خاندان کے اجلاس کی صدارت کیا کرتی تھیں۔
واقعی موت نے امی کی زندگی کے پوری طرح گنے اور ایک دن وہ چپکے سے اس دنیا سے چلی گئیں۔دادی اماں کے معاملے میں بھی موت نے اپنا اصول نہیں چھوڑا تھا۔
آج بیس سال بیت گئے۔میری حالت پہلے سے زیادہ سُدھر چکی ہے۔عالیشان بنگلے میں رہتا ہوں۔مجھے اب صحن میں نہیں سونا پڑتا۔میرا کمرا ائیر کنڈشنڈ ہے، مچھروں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اندر آسکیں۔میری میز پر اب ٹوٹی ہوئی صراحی کے بجائے منزل واٹر پڑا ہے۔اور ہاں۔اب میرا واسطہ مرغیوں کی پھڑپھڑاہٹ اور بلیوں کی مٹر گشت سے بھی نہیں۔گداز بستر پر سکون کی نیند سوتا ہوں۔پھر بھی کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں تحمل سے بیس تک نہیں گن رہا۔میں ڈار سے بچھڑی ہوئی وہ کونج ہوں جسے ان بلند وبالا عمارات کی رنگ برنگی روشنیوں میں کالا آسمان دکھائی نہیں دیتا۔

Friday, 11 March 2016

پہاڑی پہ بیٹھا ہنس
سید اعظم شاہ


شام کے دھندلکے میں جوہڑ کا سیاہی مائل پانی انگڑائیاں لے رہا ہے ۔لہریں اونگھنے لگی ہیں۔دور کہیں سے کالے ہنس قافلے کی شکل میں جوہڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ابھی ابھی آخری کرن مغربی افق کی طرف بھاگی ہے۔اس کے ساتھ ہی آخری سفید ہنس بھی جوہڑ سے نکل کر دور کہیں درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگیا ہے۔
میں اپنے فارم ہاؤس سے متصل اونچی پہاڑی پہ بیٹھا یہ سب کچھ دیکھتا ہوں۔روز یوں ہی ہوتا ہے۔ لمبی لمبی گردنوں اورسنہری چونچ والے ان ہنسوں کی سریلی آوازوں سے جوہڑ کا سکو ت پل بھر میں ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔سورج کی شعاعیں ان کے سفید پروں سے منعکس ہونے کے بعد سبز ہ زاروں،مرغزاروں،جھرنوں،آبشاروں اور گلزاروں پہ پھدکتی ہوئی شریر مسکراہٹ لیے پہاڑوں کی اوٹ میں چلی جاتی ہیں۔میں نے دیکھا،پہاڑ کی دیو قامت چوٹی بھی ان کی شوخیوں سے ڈر کر سر نیچا کرلیتی ہے۔اور سورج ایک فاتحانہ ہنسی کے ساتھ صبح کی منزل کی طرف روانہ ہوجاتاہے۔
یہ لمحوں کا دورانیہ ہوتا ہے ۔تاریک پرچھائیں ذرا گہری ہونے لگتی ہیں تو کالے ہنسوں کا غول اپنے تھکے ماندے پر جھاڑتا ہواجوہڑ کی طرف آنے لگتا ہے۔ان کے پروں کے نیچے چھپے اندھیروں کے مرغولے تیزی سے اڑکر کونے،کھدروں میں لالی کا روپ دھارے روشنی کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔لیکن روشنی کے یہ ذرے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی درخت کے نیچے خود کو سمیٹے جوہڑ کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ ہنس مکمل کالے نہیں ہیں ۔یہ جب اپنے پر اُٹھاتے ہیں تو نیچے ایک سفید حصہ نظر آتا ہے جو اندھیرے میں بجلی کی طرح کوندتا ہوا میری آنکھوں کو چندھیا کر رکھ دیتا ہے ۔اتنی تیز چمک کہ چند لمحوں کے لیے پوری کائنات سفید دھبے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔میں دوبارہ ان ہنسوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جیسے جیسے رات گہری ہوتی جاتی ہے،ان کی حرکات معدوم ہوتی جاتی ہیں۔آخری پہر تو صرف اندھیرا حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔
سورج کی پہلی کرن سے پہلے کالے ہنسوں کا قافلہ جوہڑ خالی کردیتا ہے۔پھر وہاں پانی کے سُست بلبلے ایک پل کے لیے سر اُٹھا کر دوبارہ چھپ جاتے ہیں۔شعاعیں جب جوہڑ سے ٹکرا تی ہیں تو سیاہی مائل پانی اپنے اوپرپھیلی اندھیرے کی چادر ہٹا کر جوہڑ کے کونوں میں دبکے روشنی کے ذروں کو آواز دیتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی تعداد میں سفید ذرات دوڑتے ہوئے جوہڑ کی طرف آتے ہیں کہ تاریکی ٹولیوں کی شکل میں بٹ جاتی ہے ۔میں دیکھ تو نہیں پاتامگر لگتا یہیں ہے کہ وہ آس پاس ہی کہیں ذرات کی شکل میں موجود ہوتی ہے ۔
سفید ہنس سارا دن اس جوہڑ میں رہتے ہیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ وہ بھی جب پر اٹھائیں تو نچلا حصہ سیاہ ہوتا ہے ۔میری نظر اس سیاہی پر پڑ تے ہی ایک پل کے لیے پوری کائنات سیادہ دھبے میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔میں پھر ہنسوں کو دیکھتا ہوں۔
رات دھیرے دھیرے سرک رہی ہے ۔آج میں نے تہیہ کررکھا ہے کہ ان ہنسوں کا پیچھا کروں گا۔دیکھوں گا کہاں جاتے ہیں ۔میں اُٹھ کر جوہڑ کے پاس آگیا ہوں۔بالآخرمشرقی افق پر لالی بکھر گئی ہے ۔پانی میں بیٹھے کالے ہنس اُٹھ کر کھڑے ہوگئے ہیں اور گردنوں کو تاؤ دے کر لالی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک عمر رسیدہ ہنس جوہڑ سے باہر نکلنے لگا ہے، دوسرے اس کی پیروی کررہے ہیں۔ میں تعاقب میں ہوں۔کئی گھاٹیوں ،پگڈندیوں،کھائیوں اورغاروں سے ہوتے ہوئے ہنس ایک ایسی جگہ آگئے ہیں جہاں تاحد نگاہ ایک ہموار علاقہ ہے۔ ایک شخص اس علاقے کے وسط میں بیٹھا ہے جس کے گرد سفید ہنس گیت گارہے ہیں۔اسی پل وہ اتنا مسرور ہوجاتا ہے کہ اسے نیندآجاتی ہے اور شاہانہ انداز میں سو جاتا ہے۔سفید ہنس غمزدہ گیت گاکر اسے جگانے کی سعئ رائیگاں کرتے ہیں۔
میں ایک گھاٹی کے پیچھے چھپ جاتا ہوں۔پھردیکھتاہوں کہ سفید ہنس اس شخص کو اکیلا چھوڑ کر پہاڑی کی دوسری گھاٹی میں غائب ہونے لگتے ہیں۔تب کالے ہنس اس سوئے ہوئے شخص کے وجود پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اورچونچیں مارمار کر اسے لہولہان کردیتے ہیں ۔میں دوڑکر سفید ہنسوں کا پیچھا کرتا ہوں ۔وہ ایک دائرے کی شکل میں سفر کرتے ہوئے اسی جوہڑ پر آجاتے ہیں۔
فارم ہاؤس سے متصل اونچی پہاڑی پہ بیٹھا میں نحیف بدن کے ساتھ اب بھی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں رہی کہ پہروں بیٹھا رہوں۔شک یقین میں بدلتا جارہا ہے کہ ایک دن اس پہاڑی سے لڑھک جاؤں گا ۔میری کمر جھک گئی ہے ۔چہرا جھریوں سے بھر گیا ہے ۔ناک لٹکنے لگی ہے ، کسی کالے یا سفید ہنس کی چونچ کی طرح۔

Monday, 7 March 2016


گنجائش
سید اعظم شاہ


بارش رکی تو سرد ہوا کا تیز جھونکا اس کے گالوں کو چھو کے گزرا ۔ اس کے پورے بدن میں ٹھنڈک سرایت کرگئی ۔ ٹرین آنے میں اب بھی ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ وہ بینچ پہ بیٹھی سردی سے ٹھٹھرتی رہی ۔ نگاہیں بار بار سامنے کا طواف کرتیں ۔ اتنی موسلادھاربارش کہ اس کی چھتری ٹپکنے لگی تھی ۔
ایک نظر اس نے بیگ کو دیکھا جو اب پوری طرح گیلا ہو چکا تھا ۔ تو کیا وہ سب کچھ گیلا ہوگیا ؟ مانی کی تصویریں ، فائزہ کی کتابیں، سنی کی ویڈیو گیم ، سب پانی ہوگیا ؟ اس نے سوچا۔ پھرٹھٹھرتے ہاتھوں سے بیگ کھولا۔ کتابیں اور تصویریں ایک دوسرے سے چپک گئی تھیں ۔ مانی کا گیلا چہرہ اس پہ ہنس رہا تھا ۔
وہ چند لمحے تصویر کو تکتی رہی، آنکھوں سے دوآنسو نکل کر پلکوں پہ ٹھہرے اور موتیوں کی طرح چمکنے لگے ۔ یکلخت ہوا کا ایک اور جھونکا آیا اور اس کے آنسو اڑتے ہوئے یخ فضا میں تحلیل ہوگئے ۔
" مانی ۔۔۔۔ دد ۔۔۔ دیکھومیری طرف ۔۔۔ دیکھونا ۔۔۔ مانی ۔۔۔ مانی " ۔۔۔ وہ دھیرے سے بولی،ہونٹ کپکپانے لگے ۔
مانی خاموش تھا ۔
زندگی گزرتی ہے تو اپنے ساتھ سب کچھ لے جاتی ہے ۔ اپنائیت کی وہ تمام گھڑیاں، کسی کیفے میں کافی پیتے ہوئے خوش گپیاں، برف پہ سکٹنگ کرتے کسی ہاتھ کا لمس،کچن میں ہنڈیا پکاتے کسی کی آوازیں ، لان میں اٹھکیلیاں کرتا کوئی معصوم وجود ، سب کچھ ۔
اس کی نظریں پھر اوپر اٹھیں ۔۔ رش کم ہوتا جا رہا تھا ۔ 
" خواتین و حضرات ، ٹرین مزید ایک گھنٹہ لیٹ ہے " ۔۔۔۔۔۔ 
لائوڈ سپیکرپر کوئی مکروہ آواز ابھری ۔
ایک جھماکے سے اس کے خیالات کا شیرازہ بکھر گیا ۔ سردی برداشت سے باہر تھی ۔ دانت بری طرح بجنے لگے ۔مسلسل یخ ہواچلنے سے گالوں میں لالی آنے لگی ۔ٹھٹھرتا جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔بھیگی زلفیں بار بار چہرے پہ لہراتیں تو اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ۔ سوچیں منجمد ہونے لگیں ۔
ایک پل کے لیے اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔ موبائل نکالا، نمبر ڈائل کیا،کانوں سے لگایا نہیں کہ بند کر دیا ۔ اس نے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے ۔ پاگلوں کی طرح اسٹیشن پر ٹہلنے لگی ۔
احمد نے آج کورا جواب دے دیا تھا ۔ " طلاق، طلاق، طلاق " کی تین برچھیوں کے وار سے اس کے ارمان ابھی تک خون آلود تھے ۔ بہت منت سماجت کی، اللہ کا ،رسول کا، امی کا،ابا کا،نانی کا، بچوں کا، کون سا واسطہ تھا جو اس نے نہیں دیا ۔ وہ نہیں مانا ۔
" طلاق نام کے کپڑے بدلتے فیشن کی طرح ہیں کیا؟ ۔۔ جب چاہا اتاردیے، جب من میں آیا ،پہن لیے " ۔۔ 
وہ دونوں ہاتھ باندھ کر دور ریل کی پٹڑی پہ نظر دوڑانے لگی ۔ دھندگہری ہونے لگی تھی ۔
یہ احمد سےشادی تھی یا کوئی ہوا کا جھونکا تھا ،آیا اور گیا ۔ تین سال میں تین بچوں کی پیدائش ہی ہوئی ؟ ۔۔ اور کیا تھا ۔ بچے بھی کم مسئلہ تھے؟ ۔ وہ ہر وقت انہیں مارتا ۔ ساری مدت تو انہیں چپ کراتے کراتے بیت گئی ۔
" دیکھو جان ۔ میں تمہارے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔ میں زمانے کی ہر رکاوٹ سے ٹکراجائوں گا ،لیکن تمہیں حاصل کرکے ہی دم لوں گا " ۔۔ 
احمد نے ایک دن کیفے میں کافی پیتے پیتے جذباتی انداز میں کہا تھا ۔
" لیکن ابو اور امی کو کون منائے گا " ۔۔۔۔
" ارے پگلی ۔۔۔ وہ میرا کام ہے ۔۔ تو چھوڑ ۔۔ بس میرا ہاتھ تھام " ۔۔۔۔ 
" سچ ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے شرماتے ہوئے احمد کی آنکھوں میں جھانک کر کہا ۔
اور اس نے امی ابو کو منا بھی لیا ۔
" بہت اچھا لڑکا ہے ۔ ڈھنگ سے باتیں کرتا ہے ۔ اور شریف بھی " ۔ امی خوش تھیں ۔
" کاروبار بھی ہے ۔ لڑکی کی زندگی بن جائے گی " ۔ ابا نے تائید کی ۔
وہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی سب سن رہی تھی ۔ چہرے پر حیا کی لالی مزید گہری ہوتی گئی ۔
اس رات احمد نے ڈھیر ساری باتیں کیں ۔ اتنا پیار؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ سمیٹ نہ پائوں ؟ ۔۔۔ اسے خوشگوار حیرت نے آلیا ۔ زندگی ایک ایسے حسین مرحلے میں داخل ہوگئی جس کا ایک ایک پل وہ جینا چاہتی تھی ۔
وہ روزانہ وہ اسے دعوت پہ باہر لے جاتا ۔ خوب ہنسی مذاق ہوتا ۔
ایک دن برف باری ہو رہی تھی ۔ احمد اور وہ قریبی پہاڑی پر چلے گئے ۔ وہ آگے آگے بھاگ رہی تھی اور احمد پیچھے پیچھے ۔ برف کے گولوں سے کھیلتے کھلیتے وہ پہاڑی کے آخری سرے پر آگئی ۔ پائوں پھسلا، قریب تھا کہ گہری کھائی میں گرجاتی ،احمد نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کے حلق سے ایک بلند چیخ نکلی تھی ۔
" آجائو ۔۔۔ آجائو ۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے والا " ۔۔ احمد نے اسے بازو سے پکڑ کے کھینچا ۔
" اگر تم مجھے نہ تھامتے تو ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" تو تم گر جاتی " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" پھر کیا ہوتا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" پھر کیا ہوتا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ مرجاتی " ۔۔۔۔۔
" You " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اب احمد آگے آگے تھا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ۔۔۔۔ پوری پہاڑی قہقہوں کی لپیٹ میں آگئی ۔
" تم میرا ہاتھ کبھی چھوڑو گے تو نہیں ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔ بھاگتے بھاگتے اچانک اس نے احمد کو پکڑ لیا ۔
" کبھی نہیں ۔۔۔۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" مجھے کبھی کبھی ڈر لگتا ہے " ۔۔۔ 
" ارے پگلی ۔۔ یہ ڈرنا ورنا چھوڑو ۔۔۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔۔ ہمیشہ " ۔۔۔ احمد نے کہا ۔
اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے ۔ ٹرین آنے میں اب بھی تاخیر تھی ۔ مارے سردی کے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔
" بچے تو میرے حوالے کردیتا " ۔۔۔ 
وہ روہانسی ہوگئی ۔ جاتے جاتے سنی کی ویڈیو گیم، مانی کی تصویریں اور فائزہ کی کتابیں جلدی سے بیگ میں ٹھونسیں اور نکل آئی ۔ 
محبت کتنی جھوٹی ہوتی ہے ۔۔ سچ کتنا جھوٹا ہوتا ہے ۔۔ پہاڑوں پر جھوٹ کی برف باری ہوتی ہے ۔۔ کیفے میں جھوٹ کی کافی پی جاتی ہے ۔۔ یہ ننے منھے بچے بھی جھوٹ ہیں ۔ میرے امی، ابو بھی جھوٹی باتیں کرتے ہیں ۔۔ دو گھنٹے ہو گئے ۔ جھوٹ ہے سب ۔۔ ٹرین نہیں آئے گی ۔ سب جھوٹ ہے ۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر واپس بینچ پر بیٹھ گئی ۔
طلاق
طلاق 
طلاق
اس کے کانوں کے پردے پھٹنے لگے ۔ مانی کے رونے کی آواز، ویڈیو گیم کی ٹھک ٹھک ۔۔۔ فائزہ کی ہنسی ریلوے اسٹیشن تک اس کا تعاقب کررہی تھیں ۔۔ وہ ایک بار پھر اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔موبائل فون نکالا، نمبر ڈائل کیا، گھنٹی بجی مگر دوسری جانب خاموشی کا تسلط تھا۔ 
" اٹھائو فون ۔۔۔ کیوں نہیں اٹھاتے ۔۔ اٹھائو ۔۔ ہمت ہے تو اٹھا کے دکھائو" ۔۔
وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی ۔
" ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ " پاس سے گزرتے دو بچے ہنسے ۔
اچانک فون کی گھنٹی بجی ۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے موبائل کان سے لگایا ۔
" اے ہے نسریں ۔۔۔ یہ تو بہت برا ہوا ۔۔ تجھے طلاق ہوگئی ؟ ۔۔۔۔ ہائے کتنی بے عزتی کی بات ہے ۔۔ دوسری جانب غزالہ آپا کی آواز سنائی دی ۔
کوئی عورت درمیان میں بولی۔ مجھے دے ۔۔ مجھے دے ۔۔۔ نسرین ہے ؟ ۔۔۔ میری بھی بات کرا " ۔۔ ۔
" ارے نسرین ۔۔۔ ایسا بھی کیا تھا ۔۔۔ تجھ سے ایک گھر نہ بسایا جا سکا ؟ ۔۔۔ اف ۔۔۔ تجھے طلاق ہوگئی ؟ ۔۔۔۔ ساری زندگی والدین کے گھر رہے گی ۔۔۔ اف ۔۔ ہمیں افسوس ہوا "۔۔۔۔۔
" اری بہن ۔۔ میری بھی بات کرا " ۔۔
" میری بھی " ۔۔۔۔
" میری بھی " ۔۔۔۔
" ارے میں رہ گئی ۔۔۔ میری بھی کرا بات اس سے " ۔۔۔۔
وہ چکرا کررہ گئی ۔ موبائل فون ہاتھ سے گر پڑا ۔
دور سے ٹرین آتی دکھائی دی ۔۔
" آگئی ۔۔ آگئی " ۔
ایک ساتھ کئی آوازیں اس کے کانوں پہ پڑیں ۔ اس نے ایک پل پیچھے مڑکے دیکھا ۔۔ مانی، فائزہ اور سنی کے ہیولے اسے حسرت سے دیکھ رہے تھے ۔
" محترمہ ۔۔ ٹرین آگئی" ۔۔۔ ایک آدمی نے اسے یاد دلایا ۔
اس نے مردہ ہاتھوں سے بیگ اٹھایا، مانی کی تصویر دل سے لگائی اور ٹرین کی طرف بڑھنے لگی ۔
ماضی ایک فلم کی طرح اس کے ذہن میں چل رہا تھا ۔ اسے لگا فائزہ،سنی اور مانی سامان اٹھائے اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ ہر طرف سے برف کے گولے آکر اس کے چہرے پہ لگتے ۔ گرم گرم کافی کی خوشبو اس کی ٹھنڈک دور کرنے لگی ۔ 
ابھی ٹرین میں قدم نہیں رکھا تھا کہ اس کے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھا ،مڑکر دیکھا تو احمد کھڑا تھا ۔
" تم ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔
" ہاں ۔۔۔ میں طلاق واپس لینا چاہتا ہوں ۔۔۔ ابھی ابھی مجھے کسی نے بتایا، ایسا ہوسکتا ہے،صرف چھوٹا سا شرعی مسئلہ آڑے آرہا ہے ۔۔۔ کسی مولوی کے ٌپاس جانا پڑے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد ایک ہی سانس میں کہتا گیا ۔

Thursday, 25 February 2016

مالٹے کے چھلکے
سید اعظم شاہ



اس نے برساتی اتار کرایک طرف رکھی اور بر آمدے میں آکر لان کی طرف دیکھنے لگا۔ برف باریک ہو تی جا رہی تھی۔پھر اس میں بارش کے قطرے شامل ہو گئے اوربینچ سے برف کی تہہ پھسل پھسل کر کر نیچے گر نے لگی۔مالٹے کے چھلکے سفید چادر میں سر چھپائے،چین کی نیند سو رہے تھے۔پاس ہی ایک بوتل پڑی تھی جس کے ایک تہائی حصے میں جوس اب بھی باقی تھا۔
وقت کیوں گزر جا تا ہے ؟کیا اس کے پر ہو تے ہیں؟ اگر ہیں تو کاٹے جا سکتے ہیں؟وقت کو گزرنا ہی ہے تو یا دیں ساتھ کیوں نہیں لے جا تا؟اپنے آثار با قی کیوں چھوڑ جاتا ہے؟
وہ سر جھٹک کر مڑا اور بر آمدے میں چہل قدمی کر نے لگا۔
زینب سے اس کی ملاقات آج سے سات سال پہلے ایک شادی کی تقریب میں ہو ئی تھی۔انتہائی نفیس لمحات تھے۔اس کا رجحان مذہب کی جانب زیا دہ تھا۔بات بات پہ اسلامی تعلیمات اور احکامات کے حوا لے دیتی۔اس نے پہلی نظر دیکھا تو جھٹ منہ چھپا لیا۔
’’آپ عورتوں کا احترام نہیں کرتے کیا؟ ‘‘
’’جج۔ جی.......کک کیا ہوا ؟‘‘
’’ کیا ہوا۔معلوم نہیں آپ کو؟۔غیر محرم عورت کو دیکھنا سخت گنا ہ ہے ‘‘
’’ غلطی ہو گئی‘‘۔
’’جی۔ غلطی ضرورہو ئی مگر آپ مسلسل مجھے دیکھ کر غلطی پہ غلطی کیے جا رہے ہیں‘‘۔
’’ اب جانے دیں۔اتنی بھی سختی نہیں ہے مذہب میں۔یہ عورت کی آزادی کے بھی خلاف ہے ‘‘۔
’’کیاکہا۔کیاکہا۔ذرا پھر کہنا۔آپ کو شرم نہیں آتی ایسی بات کہتے ہو ئے‘‘۔
’’کیا ہو گیا‘‘۔
’’ آپ ابھی اور اسی وقت یہاں سے اٹھ جا ئیے۔نہیں تو میں گھر کے مَردوں کو بتا دوں گی‘‘۔
’’گھر کے مَردوں کو ؟‘‘ .....وہ طنزیہ انداز میں بڑ بڑا یا اور اٹھ کر ہال سے باہر آگیا۔
یہ مذہبی لوگ اتنے شدت پسند کیوں ہو تے ہیں۔بات بات پہ جھگڑا۔اوپر سے منہ چھپا لیا۔ڈاکو لگ رہی تھی پوری۔اچھی بھلی خوبصورت عورت ہوتی ہے۔برقع اوڑھ کر چڑیل بن جا تی ہے۔تمیز نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہو تی ان میں۔
وہ گھر تو آگیا مگر زینب کاخیال اس کے ذہن پر تہہ در تہہ اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا۔غصے میں تو اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی۔صرف اگر تھوڑا سے پڑھ لکھ جا تی۔اس نے سوچا۔
زینب سے دوسر ی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ اس کی بہن کے ساتھ اس کے گھر آئی۔اسے دیکھتے ہی اس نے پھر برا سا منہ بنا لیا۔وہ اب موقع کی تاک میں تھا۔
’’صائمہ۔ان کے لیئے چائے وا ئے کا بندوبست تو کرو۔آدھا گھنٹہ ہو گیا‘‘ اسے تد بیر سوجھی۔
’’ اوہ ہاں۔زینب ۔تم ادھر ہی بیٹھو۔میں ایک منٹ میں چائے بنا کر آئی‘‘۔صائمہ شرمندہ ہو کر بولی۔
’’خالی چائے مت لے آنا۔ساتھ کچھ...........‘‘ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔تب صائمہ نے اسے کھا جا نے وا لی نظروں سے دیکھا اور وہ دل ہی دل میں ہنس کر رہ گیا۔زینب کے چہرے پر نا گواریت تھی۔مسلسل کھڑکی سے با ہر دیکھے جا رہی تھی۔
’’ محترمہ ‘‘ ا س نے مخاطب کرنا چاہا۔
’’ دیکھیں۔بہتری اسی میں ہے کہ آپ باز آجا ئیں۔میں کسی غیر محرم سے بات نہیں کرنا چاہتی ‘‘۔ وہ دھیمے اندازمیں بولی۔لہجے میں بلا کا غصہ صاف ظاہر تھا۔
’’ دد....دیکھیں‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
’’ آپ نے سنا نہیں۔میں شور مچا دوں گی۔تمہا ری بہن کو شکایت کروں گی۔گھر کے مَردوں کو بتا دوں گی‘‘۔زینب کی آواز بتدریج بلند ہوتی گئی اور اس نے کھسک جا نے میں ہی عافیت سمجھی۔
زینب کے عشق کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ وہ نہ چاہتے ہو ئے بھی نمازی ہو گیا۔چہرے پہ سیاہ،چمکیلی ڈاڑھی چھوڑ دی،ہاتھ میں تسبیح پکڑی اور مسجد سے دوستی کر لی۔اس کی پارسائی کے قصے زینب تک بھی پہنچے۔اسلامی خط و کتابت ہوئی،شادی تک بات پہنچی اور ایک دن زینب نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو زینب کو بہت اچھا لگا۔ہر وقت اسے نہلاتی دھلا تی رہتی۔اس کے لیے چھوٹی سے جالی دار ٹوپی بھی منگوالی،چھوٹی سی جائے نمازکا اہتمام ہوا،چھوٹا سے لوٹا خریدا اور چھوٹی سی تسبیح آگئی۔نام اس کا حسن رکھا۔
اب کیا تھا،جائے نماز تھی،حسن تھا،زینب تھی اور اسلامی تعلیمات تھیں۔ زینب اسے بھی ابو حسن کہنے لگی تھی۔
’’ دیکھو زینب۔یہ کیا اسے ٹوپی پہناکر ملا بنائے رکھتی ہو۔زمانہ بدل گیا مگر تمہاری سوچ نہ بدلی۔ذرا اس کے ہم عمر بچوں کو دیکھو تو۔بالکل انگریز لگتے ہیں‘‘۔ وہ کہا کرتا۔
’’ کیا کہا انگریز۔میں مر جاؤں گی مگر اپنے بچے کو انگریز نہیں بننے دوں گی۔ہاں ۔انگریزی بے شک سیکھے‘‘۔زینب کا جواب سن کر وہ بے بسی سے ہاتھ ملتا رہ جاتا تھا۔
وہ شادی کی تقریبات میں جاتا تو دوستوں کے طعنے سننا پڑتے۔
’’ لوجی۔شد ت پسند آگئے ‘‘۔
’’ یار۔بھابی کہاں ہو تی ہے۔تمہا رے سا تھ نہیں آتی کیا‘‘
’’ بہت ڈرتے ہو تم اس سے ‘‘
’’ زمانے کے ساتھ چلنا سیکھو ‘‘
یہ فقرے اس کے خیالات پر بجلی بن کر گرتے ۔اس کی الجھن بڑھ جا تی تھی۔
’’ ان سے ملو۔میری وائف ہیں ‘‘
’’ عروج۔یہ میرے دوست ہیں اکرام ‘‘
’’ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔بھابی کہاں ہیں ؟ ‘‘
’’ یہ کیا بات ہوئی۔سراسر جاہلیت ہے ‘‘
دوستوں کی گھر وا لیاں بھی اس کا مذاق اڑانے لگیں۔
’’ مجھ سے نہیں جایا جاتا ایسی تقریبات میں ۔اللہ معاف کرے ‘‘ اس کے شکوہ کر نے پر زینب ایسا ہی کورا جواب دیتی۔
بہت منفرد عورت تھی۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں سے کیڑے نکالتی۔
ایک دن حسن مالٹے کھا رہا تھا۔چھلکے فرش پر پھینکے تو زینب بہت خفا ہوئی۔
’’ بیٹا۔یہ کیا کر رہے ہو۔چھلکے اس طرح پھینکتا ہے کوئی۔تمہیں معلوم نہیں گندگی پھیلتی ہے۔صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ 
زینب نے سارے چھلکے چنے اور شاپنگ بیگ میں ڈال دیے۔
’’ کیا کرو گی ان چھلکوں کا ؟ ‘‘ اس نے عجیب سی نظروں سے زینب کو دیکھا۔
’’ اجی۔آپ کو کیا پتہ۔ایک تو انہیں اس طرح زمین پر پھینکنے سے گندگی پھیلتی ہے ،دوسرے یہ چھلکے بڑے کام کے ہوتے ہیں۔ان میں انٹی بیکٹیرل خاصیت موجود ہو تی ہے ۔جلد کے دانوں اور مہاسوں پر انہیں رگڑا جا ئے تو بہت مفید ثابت ہو تے ہیں۔ان کی انتہائی معمولی مقدار کھا نے میں شامل کریں تو خوشبو آتی ہے۔انہیں آپ پاؤڈر بنا کر کھا ئیں تو نظام انہضام بہتر ہو تاہے۔اگر آپ کو کوئی کیڑا کاٹ لے تو...................‘‘ زینب کہتی گئی اور اس نے ڈانٹ کر اسے چپ کرادیا۔مالٹے کے چھلکے،گندگی ،دانے،مہاسے،خوشبو،پاؤڈر،کیڑے،۔یہ میری بیوی کتنا بچگانہ ذہن رکھتی ہے۔وہ دل ہی دل میں اپنے نصیب کو کوس رہا تھا۔
’’ ارے ارے۔اتنی بے احتیاطی ۔جوس آدھا پی کر پھینک دیا ۔یہ رزق ہے۔اللہ جی کتنے ناراض ہو تے ہیں۔اور پھر بوتل تو ہمارے کام آتی ہے۔انسان پانی وانی ڈال کر پیتا ہے ‘‘ زینب نے حسن کو ایک بار پھر پیار سے ڈانٹا۔حسن نے جوس پینے کے بعد بوتل ایک طرف اچھال دی تھی جو فرش پر لڑھکتی ہوئی دروازے سے باہر چلی گئی ۔زینب بھاگتی بھاگتی بوتل کے پیچھے گئی اور وہ ہاتھ باندھے اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہو۔
زینب کی بچگانہ حرکات اس کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔جیون کے کچے بندھن میں تلخیاں بسیرا کر نے لگیں۔دھاگے کمزور ہو نے لگے،مارپیٹ تک نوبت آئی،تشدد ہوا مگر......زینب یہ سب کچھ برداشت کرتی گئی۔زبان سے علیحدگی کا نام بھی نہ نکلا۔
’’ کتنی ڈھیٹ عورت ہے تو ‘‘ زینب کو مارمار کر جب وہ تھک جا تا تو زبان سے یہی الفاظ نکلتے۔
’’ میں ڈھیٹ سہی۔آپ بھی تو ظلم کر تے ہیں ‘‘۔وہ کہا کر تی۔
’’ طلاق ،طلاق ،طلاق ‘‘ ایک دن اس نے زینب پر تین تلواریں چلا دیں۔گھر والوں کو اکٹھا کیا،شور شرابا ہوااور زینب کو زبردستی طلاق دے دی۔وہ کافی منت سماجت کر تی رہی ،پاؤں پڑی،واسطے دیے،قسمیں دیں مگر بندھن ٹوٹ گیا۔اکیلا حسن اس کے پاس رہ گیا۔
اس کی زندگی میں’’ ٹینا ‘‘ نام کی ایک نئی پری آگئی تھی۔چاند سا چہرا،مٹکتے گال،پتلی کمر،ملائم زلفیں،جینز،جدید ساخت کا لباس اور شوخ ادائیں۔ٹی شرٹ میں تو وہ اور بھی خوبصورت لگتی۔فیشن شو میں کیٹ واک کرتی تو اس کی دھڑکن تیز ہو جا تی تھی۔بات چل نکلی۔دو دل آپس میں ملنے لگے۔گھر والوں سے بات کی اور شادی طے ہو گئی۔
دونوں کی زندگی بڑے متوازن انداز میں آگے بڑھنے لگی۔وہ اپنی نئی شریک حیات کو اکثرتقریبات میں لے جا تا۔
’’یہ میری نئی وائف ہیں ‘‘
’’ ما شاء اللہ۔ما شاء اللہ۔یار۔تم تو واقعی خوش قسمت ہو‘‘ اس کے دوستوں کی نگاہیں ٹینا کا طواف کر نے لگتیں اور وہ شرما کر نظریں جھکا لیتی تھی۔
ٹینا فیشن شو سے بہت کمالیتی تھی۔اسے یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا۔دونوں میں پھرپور ہم آہنگی 

تھی ۔شادی کا نیا بندھن ڈھیروں خوشیاں لے کر آیا اورزندگی پوری رفتار سے آگے بڑھنے لگی۔
آج صبح سے برف باری ہو رہی تھی۔سہانے موسم سے لطف اندوز ہو نے کے لیے اس نے ٹینا اورحسن کو ساتھ لیا اور تینوں گھومنے پھرنے چلے گئے۔دن کا قیام ایک ہوٹل میں کیا۔کھانا کھا نے کے بعد وہ ہوٹل کے لان میں آگئے۔پتے پتے سے رومانیت چھلک رہی تھی۔وہ بینچ پر بیٹھے مزے مزے کی باتیں کر نے لگے۔حسن برف کے ساتھ کھیلنے لگا۔ایک ایک پل حسین لگنے لگا تھا۔
’’ سنو۔مالٹے اور جوس لے آؤ‘‘ ٹینا نے بیرے کو آواز دی۔
’’ ٹینا۔مجھے تمہارا فیشن شو میں جا نا بہت اچھا لگتا ہے ‘‘
’’ اکرام۔اس کے بغیر چارہ بھی تو نہیں۔زمانہ بدل گیا ہے۔اب میں گھر بیٹھ کر چرخہ تونہیں گھما سکتی ‘‘ ٹینا نے ہنس کر کہا اور دونوں کے قہقہوں سے فضا گونج اٹھی۔
’’ ٹینا ۔ایک بات پوچھو ں ، برا تو نہیں مناؤ گی ‘‘۔
’’ ایسی کیا بات ہے ‘‘ ٹینا نے چونک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’ اس دن فیشن شو میں تم ایک لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔بہت دیر تک۔مجھے اچھا نہیں لگا ‘‘ اس نے رک رک کر کہا۔
’’ کیا مطلب۔اب میرے باتیں کر نے پہ بھی پابندی ہے کیا۔وہ میرا دوست ہے۔میں اس کے ساتھ اکثر گھومنے پھرنے بھی جا تی ہوں۔ہم محبت کی حد تک ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ‘‘۔ ٹینا مالٹے کھاتے ہو ئے ناراض ہو کر بولی۔
’’ کک ...کیا۔ٹینا۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو ‘‘۔
’’ جی۔میں یہی کہہ رہی ہوں۔مجھے اپنی زندگی خودجینے کا اختیارہے‘‘۔ٹینانے اطمینان بھرے لہجے کہا اور جوس پینے لگی۔
’’ تو شادی میرے ساتھ کیوں کی ‘‘ وہ روہانسا ہو کر بولا۔
’’ ہاں تو شادی کا یہ مطلب ہے کہ میں تمہا ری غلام ہو گئی ؟ ‘‘ ٹینا نے غصے میں جوس آدھا چھوڑ کر بوتل پھینک دی اور اٹھ کر ہوٹل کے بر آمدے کی طرف چل دی۔وہ چند لمحے بت بنا ٹینا کو دیکھتا رہا۔پھربوجھل قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے ہو لیا اور بر آمدے میں آکر کھڑا ہو گیا۔
برفبا ری اب ہلکی بارش میں تبدیل ہو گئی تھی۔اس نے حسن کو دیکھا جو تیز تیز قدموں سے بینچ کی طرف جا رہا تھا ۔ پاس پہنچتے ہی حسن نے زمین پر پڑے مالٹے کے چھلکے اورجوس کی بوتل اٹھائی۔پھر دوڑتا دوڑتا اس کی طرف آیا۔
’’ ابو ابو۔امی کہا کرتی تھیں کہ مالٹے کے چھلکے اور جوس کی بوتل اس طرح نہیں پھینکا کرتے ‘‘۔ حسن نے سانس درست کر نے کے بعد چلا چلا کر کہا۔ لہجے میں معصومیت تھی۔


بلائیں

سید اعظم شاہ

جب سے فضلو کو ٹائیفائیڈ ہوا، وہ ایک چلتی پھِرتی لاش بن گیا تھا ۔ گال اس حد تک دھنس چکے تھےکہ ان میں چڑیاں باآسانی گھونسلا بنا کر انڈے دے سکتی تھیں ۔ آنکھوں کی جگہ سیاہ حلقے دکھائی دے رہے تھے ۔ جسم میں گوشت تھا ہی نہیں ۔ محض جلد ہی تھی جس کے نیچے نیلی رَگوں کا اُبھار اور ہڈیوں کے جوڑ اس کے وجود کو پنجرہ بنائے ہوئے تھے ۔ سر کے بال اس قدر گَرد سے اَٹے اور بے ترتیب تھے جیسے ا ن میں زوردار بم دھماکا کیا گیاہو ۔ راہ چلتے اس کی آستینیں جھول رہی ہوتی تھیں ۔ وہ کپڑے پہنتا تو ایسے معلوم ہوتا جیسے کوئی قمیص ہے ، جسے سہارا دینے والا کوئی نہیں ، بس ہوا کے دوش پہ اُڑے ہی جارہی ہے ۔ کمان کی طرح جُھکی کمر نے وقت سے پہلے اسے بابا بنا دیا تھا ۔ اِتنا لاغر کہ بعض اوقات اپنے آپ پر بھی رحم آتا ۔ کرتا بھی کیا؟ بیوی کے ساتھ ساتھ ان پانچ بلائوں کے منہ میں بھی تو کچھ نہ کچھ ٹھونسنا تھا ۔ وہ پانچوں بول تو کم ہی سکتے تھے مگر روٹی کا لفظ انہیں حفظ ہو چکا تھا ۔ گھر میں اکثر فاقے ہوتی اور پانچ کی پانچ بانسریاں بیک وقت آسمان سر پہ اُٹھالیتی تھیں ۔ 
" ریڑھی لگا لو ۔ کب تک تجھے پالتی رہوں گی ؟ پہاڑ توڑنے اور کھدا ئی کرنے سے تو رہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا تنگ آکر اسے بُری طرح کوستی ۔
فضلو کا بس چلتا تو ایک ہی تھپڑ رسید کرکے ذلیخا کی تیز طراری دور کردیتامگر ایسا وہ کس منہ سے کرتا ؟ گھر کی دال روٹی ذلیخا کے پیسوں سے چل رہی تھی ۔ جاگیردارنی کا بھلا کہ ماہوار تنخواہ کے علاوہ ذلیخا کو پائوں دابنے کے عوض بھی کچھ نہ کچھ دے دیتی ۔ کبھی کبھی اشیائے خوردنی بھی مل جاتیں ۔ اسی پہ گزر بَسر ہورہا تھا ۔
گائوں میں قصے مشہور ہوگئے، فضلو بیوی کی کھارہا ہے ۔ اب تو اس کا نام بھی نکما رکھ دیا گیا تھا ۔ رفتہ رفتہ وہ گائوں کی تمام باتونی عورتوں کا موضوعِ بحث بن گیا ۔ بیاہ ہو یا ماتم، جہاں تین چار اِکٹھی ہوتیں، لازماََ اِس کا تذکرہ چِھڑتا تھا ۔ ایک عورت جب نمکین لہجے میں فضلو کی کاہلی، سُستی اور بے غیرتی کی داستان سناتی تو ساتھی عورتیں کانوں کو ہاتھ لگاتیں ۔ 
" توبہ توبہ ۔ خدا ایسا شوہر کسی کو نہ دے ۔ اب تنا بھی تو بیمار نہیں کہ ہلکا پُھلکا ذریعہ معاش بھی نہ ڈھونڈ سکے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اجی بس نہ پوچھو ۔ چارپائی پہ جو گِراتو انتظار کرتی ہوں، اب اُٹھا کہ اب اُٹھا ۔ اِسے تو لیٹنے سے فُرصت نہیں ملتی ۔ جو ملتا ہے ، وہ پانچ بلائیں اِتنا بڑا منہ کھولتی ہیں کہ برکت ہی اُٹھ جاتی ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا ہر محفل میں جب رو کر کہتی تو استغفار کا وِرد ہونے لگتا ۔
اکثر راتیں بھوکے پیٹ کٹتی تھیں ۔ پانچوں کی زبان پر روٹی کا سوال اصرار میں بدلنے لگتا ۔ پِھر اس میں احتجاج کا عنصر آجاتا ۔ ایک دن جب تین سالہ عبداللہ " روٹی ،روٹی " کی صدا لگا رہا تھا تو ذلیخا نے طیش میں آکر اسے اُٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ۔ تب وہ ایک ہفتہ چارپائی سے اُٹھ نہیں پایا تھا ۔ چارسالہ دلدار کا تو یکبارگی اپنے بھاری بھرکم ہاتھوں سے گلا دبوچ ڈالا ۔ اس کی آنکھیں باہر ابل پڑیں، زبان تھوک اُگلنے لگی تھی ۔ قریب تھا کہ مرجاتا، فضلو نے مداخلت کرڈالی ۔ پانچ سالہ اکرام کو ایک دن چُھری لگنے کوتھی کہ فضلو پِھر بیچ میں آگیا ۔ رہ گئے چھے سالہ اسماعیل اور آٹھ سالہ احسان تو ان کی کمر پر بھی پھوڑوں کی شکل میں چھڑیوں کے نشانات تھے ۔ 
" کم بخت ۔ جان سے ماڈالنا چاہتی ہے ا نہیں کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو التجا آمیز نظروں سے ذلیخا کو دیکھتا ۔ وہ غصے میں آکر روہانسا ہوجاتا تھا ۔ 
" ہاں ہاں ۔ ماراڈالوں گی ایک دن ان سب کو جان سے ۔ ٹھیکہ نہیں لے رکھا میں نے " ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلیخا جل بُھن کر کہتی ۔
رات جب پُورا گائوں نیند میں ڈُُوبا ہوتا، فضلو تخیل کی وادیوں میں غرق ہوجاتا ۔ کئی دفعہ خیال آیا چھت سے کُود کر خودکشی کرلے ، زہر پی لے یا پھر ذلیخا کی وہ سبزی والی چُھری اُٹھا کر چُپکے سے سینے میں اُتار دے ۔ وہ بھی کیا دن تھے جب وہ ہٹا کٹا ،توانا مزدور تھا ۔ دن کو پہاڑ کھودتا، کانوں میں گُھستا اور شام کو پسینے سے تَر پیشانی لیے گھر آتا تو ذلیخا " ابا آگئے " کا اعلان کرتی ۔ بچے دوڑے دوڑے اس کی گود میں آجاتے تھے ۔ فضلو باری ناری ان سب کو چُومتا ۔ وہ اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتے ۔ لال نوٹ ذلیخا کو تھماتا تو وہ پنکھا ہِلا کر اس کا پسینہ خشک کرتی ۔ پل بھر میں تازہ سالن ، گرم گرم چپاتیاں آجاتیں ، ساتھ ٹھنڈا پانی بھی ہوتا ۔ کھانا ختم کرچُکتا تو ذلیخا اس کی بانہوں میں آجاتی ۔ وہ اسے ڈھیروں پیار کرتا ، اس کی زُلفوں سے کھیلتا ۔ ذلیخا کی نگاہیں حیاکی لالی سے جُھک جاتیں ۔ 
انسان کی زندگی بھی ایک ٹائیفائیڈ ہے ۔ لاکھ علاج کرائیں، مرض بڑھتا جاتا ہے ۔ مَر کر ہی جان چھوٹتی ہے ۔ 
" کیوں نہ اسماعیل کو سائیں کی خدمت پر وقف کردوں ۔ مہینے کے مہینے پیسے آئیں گے، کھانا بھی وہیں کھالیا کرے گا " ۔۔۔۔۔ فضلو نے سوچا ۔ 
سائیں کے اس گائوں میں بڑے چرچے تھے ۔ گائوں کا جو شخص اپنے بچون کو پالنے ٌپوسنے سے قاصر ہوتا، سائیں کی خدمت میں حاضر کردیتا ۔ وہ اسے ملازم رکھ لیتا، باٌپ کو ماہوار معاوضہ ملتا جسے تنخواہ کا نام دیا جاتا تھا ۔ سائیں کے ملازم کبھی کھیتوں میں کسانوں کے ساتھ ہوتے، کبھی گھوڑوں کے آگے چارہ ڈالتے ۔ کچھ نہ ہوتا توسارا دن سائیں کے محل کی دیواریں رگڑ گڑ کر انہیں آئینہ بناتے ۔ کوئی محل سے بھاگنے کی سعی کرتا تو سائیں اس کے پیچھے جاسوس کُتے لگا دیتا تھا ۔ بھگوڑا جس گھر میں چُھپتا، برآمد ہوجاتا ۔ 
" دیکھو ذلیخا ۔ میں احسان کو بھی کرمُو اُستاد کے ساتھ کنڈیکٹر لگا دوں گا ۔ بس کی سیر بھی کرے گا، روٹی بھی کھانے کو ملے گی ۔ کچھ نہ کچھ گھر بھی لے آیا کرے گا ۔ اور اسماعیل کو سائیں کے محل میں بھلا روٹی کی کیا کمی ہوگی ؟ فروٹ کھائے گا فروٹ ۔ اتنا موٹا تازہ ہوگا کہ مائیں بھی ارمان کریں گی، کاش وہ اُن کا بیٹا ہوتا " ۔ فضلو کہتا گیا ۔
" کاش ایسا ہو " ۔۔۔۔۔۔ ذلیخا نے سرد آہ بھری ۔
" احسان ، اسماعیل ۔۔۔۔ کہاں مرگئے ۔ اِدھر آئو ذرا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نے بلند آواز میں انہیں پکارا ۔ دونون جھٹ آنمودار ہوئے ۔
" کیا ہے ابا ۔ روٹی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یک زبان ہوکر بولے ۔ 
" آج کے بعد تم دونوں اچھے اچھے کھانے کھائو گے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اچھے اچھے کھانے ؟ وہ کیسے ابا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" تمہیں معلوم نہیں اچھے کھانے کیا ہوتے ہیں ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں ابا ۔ میں نے سلیم کو اچھے کھانے کھاتے دیکھا ہے ۔ روزانہ صبح سکول جاتے ہوئے مجھے ملتا ہے وہ ۔ ڈبے میں انڈہ، پراٹھا اور مکھن لے کر جاتا ہے ۔ سکول سے چھٹی کے وقت دُکان سے چاٹ بھی کھاتا ہے ، جوس بھی پیتا ہے ۔ گھر آتا ہے تو امی اسے کباب کھلاتی ہے ۔ اور۔۔۔۔۔۔ اور " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل دیوانہ وار کہتا جا رہا تھا کہ ذلیخا نے ٹوکا :
" تو اب تجھے بھی ہم کباب کھلائیں کیا ؟ دیکھے اپنے صاحبزادے کے نخرے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فضلو سے مخاطب ہوئی ۔
" بیٹا یہ سب کچھ تمہیں ملے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نےسنی ان سی کرتے ہوئے سلسلہ تکلم دوبارہ جوڑا ۔ 
" سچ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی سے اُچھلے ۔
" ہاں سچ ۔ لیکن تمہیں سائیں کے پاس کام کرنا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" نہیں ابا ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں مارتا ہے " ۔۔۔۔۔۔ 
" نہیں مارے گا تجھے ۔ میں اُسے بول دوں گا ۔ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو نے طویل سانس لے کرکہا ۔
" اور میں ابا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان کے لہجے میں بھی اشتیاق اُبھر آیا ۔
" تُو کنڈیکٹری کرے گا کرمو اُستاد کے ساتھ ۔ پریشان مت ہونا ۔ اس کے پاس بھی کھانے کمی نہیں ۔ اور تو اور، بس کی سیر بھی کرے گا ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جایا کرے گا ۔ عیش کرے تُو میرے بیٹے " ۔۔۔۔۔۔ فضلو نے دونوں کو باری باری چُوما۔
" چلو نا ابا، چلونا ابا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اصرار کرنے لگے ۔
سائیں کے محل میں کیا کُچھ نظر نہیں آیا ۔ وسیع و عریض میدان میں انواع و اقسام کے فوارے لگے ہوئے تھے ۔ ہر طرف مور ناچ رہے تھے ۔ میدان کے ایک کونے میں لمبی سلاخوں والا پنجرہ تھا جس کے اندر شیر دھاڑتے دکھائی دیئے ۔ مشہور نسل کے سیاہ اور بُھورے کُتوں کی خوب خاطر مدارت ہورہی تھی ۔ کُتے ہٹے کٹے تھے ۔ کھا کھا کر یہ نوبت آگئی تھی کہ چکن روسٹ دُور سے ہی سونگھ کر چھوڑدیتے ۔ محل کی اونچی دیواریں آسمان سے باتیں کررہی تھیں ۔ بڑے بڑے لال گملوں میں سیاہ گُلاب سے کے کر ہر قسم کا پُھول کھلا ہوا تھا ۔ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو گننے کے بعد ہی معلوم ہوتا کہ ان کی تعداد دس تھی ۔ ہر طرف ملازموں کی فوج اپنے کاموں میں مصروف تھی ۔ لان میں پڑی دو کُرسیوں پر سائیں کے دوبیٹے خوش نما لباس زیبِ تن کیئے ٹانگیں میز پر پھیلائے انگریزی رسالہ دیکھ رہے تھے ۔ ان کے گِرد دس، بارہ آدمیوں کا دائرہ تھا ۔ کوئی ان کے پائوں داب رہا تھا تو کوئی ہاتھ ۔ کوئی بال کنگھی کررہا تھا اور کوئی پانی کا گلاس اُن کے منہ میں اُنڈیل رہا تھا ۔ ان کے کہنے پر کبھی ایک شے سامنے لا کر رکھی جاتی تو کبھی دوسری ۔ دو آدمی پنکھا ہلا رہے تھے ۔ جسم کے کسی حصے میں خارش ہوتی تو وہ ملازموں کو ہی کھُجانے کا کہتے ۔ 
سائیں تک پہنچتے پہنچتے فضلو کو طویل راہداریوں سے گزرنا پڑا ۔ کمرے میں داخل ہوا تو سائیں گائو تکیہ لگائے حُقہ پیتے نظر آیا ۔ ملازم پرچھائیوں کی طرح اس کے چاروں طرف منڈلا رہے تھے ۔
" کیوں رے بابے؟ آج تجھے بھی معلوم ہوگیا کہ روٹی سائیں ہی دیا کرتا ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" وو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ سس ۔۔۔۔۔۔ سائیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضلو گھبرا گیا ۔
" کیا نام ہے اِس چھوکرے کا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" جی ۔ اسماعیل " ۔۔۔۔۔۔
" بہت تنگ کرتا ہے نا تجھے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" جج ۔ جی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" روٹی مانگتا ہے کیا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں سائیں جی ۔۔ اِسے روٹی ہی تو چاہیئے " ۔۔۔۔۔ اس نے خوفزدہ نگاہوں سے سائیں کو دیکھا ۔
" رکھ لے یہیں ۔ روٹی ہی روٹی ملے گی ۔ ماہوار تجھے بھی تنخواہ دے دیا کروں گا " ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا اور دوبارہ حُقہ پینے میں محو ہوگیا ۔ 
فضلو اسماعیل کو چھوڑ کر کھسکنے ہی لگا تھا کہ سائیں پھر بول اُٹھا :
" بیٹے ویٹے کو بھول جا اب ۔ ایک ماہ بعد اپنی تنخواہ لے جانا ۔ اب جا " ۔۔۔۔۔ 
فضلو نے آخری نظر اسماعیل کو دیکھا ۔ اُس کی آنکھوں میں اب بھی روٹی کا سپنا تھا ۔
" ابا " ۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل کے منہ سے نکلا ۔
" اِ دھر چل چھوکرے ۔ محل کی صفائی شروع کر ۔ یہاں سب ہی تیرے ابے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ملازم نے پھنکار کر کہا اور اسماعیل کو ساتھ لےکر محل کے عقبی دروازے سے نکل گیا ۔ 
فضلو گھر آیا تو جھونپڑی کے ایک ایک سوراخ سے اسماعیل جھانکتا دکھائی دیا ۔ اگلے ہی دن وہ احسان کو بھی کرمو استاد کےپاس چھوڑ آیا ۔ احسان دن بھر سواریوں کے لیئے آوازیں لگاتا، اُستاد کی ڈانٹ سُنتا ،تھپڑکھاتا ۔ شام کو گھر لوٹتا تو پچاس روپے ساتھ لاتا ۔ فضلو جمع کرتا گیا ۔ دو ماہ بعد گائوں کے نکڑ پہ ایک سبزی کا کوکھا بھی لگا لیا ۔ ایک وقت کاکھانا تین وقت پر آگیا،دن میں ایک دفعہ چائے چل جاتی ۔ کبھی کبھی فضلو پھل لے آتا اور پُورا خاندان دائرے کی شکل میں بیٹھ کر کھاتا ۔ وہ کھوکھے سے واپس آتا تو سبزی اور پھلوں کی ٹوکریاں ساتھ لاتا ، رات بھر انہیں رگڑ رگڑ کر دھوتا رہتا ۔ ذلیخا بدل گئی ۔ اس سے ایسے شرماتی جیسے سہاگ رات کا دولہا ہو ۔
" اے بہن ۔ فضلو تو عیش کرگیا ۔ سبزی کی اچھی خاصی دکان لگا لی ۔ اوپر سے دو بیٹے دن کے دن اور مہینے کے مہنے رقم گھر لانے لگے " ۔۔۔
" ذلیخا کیا جاگیردارنی کے گھر سے تھوڑا مال لاتی ہے " ۔۔۔۔۔۔ 
" دن رات گوشت کا سالن کھاتے ہیں " ۔۔۔۔
" اور تو اور ، چائے دن میں ایک دفعہ پیتے تھے ۔ اب دو ، دو اور تین تین دفعہ چسکے لیتے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" ذلیخا تو بھینس خریدنے کے چکر میں ہے ۔ رقم جمع کررہی ہے " ۔۔۔۔۔
" کیا خبر کہاں سے مال آتا ہو ۔ آخر فضلو کے پاس سبزی کی دُکان کے لیئے پیسے کہاں سے آگئے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ضرور کہیں چوری کی ہوگی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" چوری نہ بھی کی ہو، کوئی نہ کوئی غیر قانونی دھندہ ضرور شروع کررکھا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
" کہیں منشیات نہ بیچتا ہو " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" واقعی ۔۔۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے " ۔۔۔۔۔
گائوں کی باتونی عورتوں میں پھر کھُسر پُھسر ہونے لگی تھی ۔
انہی دنوں ملک کا ایک نامور سیاستدان قتل ہوگیا ۔ تمام شہروں میں ہنگامے پُھوٹ پڑے ۔ سرکاری و نجی املاک نذرِ آتش کردی گئیں ، گولیاں چلیں اور چالیس پچاس افراد کی لاشیں گر گئیں ۔۔
رات کو ٹیلی ویژن پر ایک شخص کہہ رہا تھا :
" جمال الدین خان کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے ۔ ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے اینکر کے تاثرات کُچھ ایسے تھے :
" شہید نے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار اداکیا ۔ آج ہمارا ملک یتیم ہوگیا ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی کارکن دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ غم کی علامت کے طور پر پورے ملک میں سیاہ جھنڈے لہرا دیئے گئے ۔ ساری رات ٹیلی ویژن پر " شہید " سیاستدان کی سیاسی خدمات پر روشنی ڈالی جاتی رہی ۔ اس کے ابتدائی کیرئیر، تعلیم ، حکومتی عہدوں، سیاسی رفقا اور گھریلو زندگی پہ سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ ملک کے کونے کونے میں جمال الدین خان کا نام گونجتا رہا ۔ ہنگامے رات بھر جاری رہے ۔
صبح ہوئی تو فضلو تباہ و برباد سبزی کے کھوکھے کی راکھ صاٖف کرنے لگا ۔ احسان جلی ہوئی بس کے پاس کھڑا مالک کا انتظارکررہا تھا ۔۔ ذلیخا نے عبدا للہ اور دلدار کو تھپڑ مارے اور جاگیردارنی کے پائوں دابنے حویلی چلی گئی ۔