پہاڑی پہ بیٹھا ہنس
سید اعظم شاہ
شام کے دھندلکے میں جوہڑ کا سیاہی مائل پانی انگڑائیاں لے رہا ہے ۔لہریں اونگھنے لگی ہیں۔دور کہیں سے کالے ہنس قافلے کی شکل میں جوہڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ابھی ابھی آخری کرن مغربی افق کی طرف بھاگی ہے۔اس کے ساتھ ہی آخری سفید ہنس بھی جوہڑ سے نکل کر دور کہیں درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگیا ہے۔
میں اپنے فارم ہاؤس سے متصل اونچی پہاڑی پہ بیٹھا یہ سب کچھ دیکھتا ہوں۔روز یوں ہی ہوتا ہے۔ لمبی لمبی گردنوں اورسنہری چونچ والے ان ہنسوں کی سریلی آوازوں سے جوہڑ کا سکو ت پل بھر میں ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔سورج کی شعاعیں ان کے سفید پروں سے منعکس ہونے کے بعد سبز ہ زاروں،مرغزاروں،جھرنوں،آبشاروں اور گلزاروں پہ پھدکتی ہوئی شریر مسکراہٹ لیے پہاڑوں کی اوٹ میں چلی جاتی ہیں۔میں نے دیکھا،پہاڑ کی دیو قامت چوٹی بھی ان کی شوخیوں سے ڈر کر سر نیچا کرلیتی ہے۔اور سورج ایک فاتحانہ ہنسی کے ساتھ صبح کی منزل کی طرف روانہ ہوجاتاہے۔
یہ لمحوں کا دورانیہ ہوتا ہے ۔تاریک پرچھائیں ذرا گہری ہونے لگتی ہیں تو کالے ہنسوں کا غول اپنے تھکے ماندے پر جھاڑتا ہواجوہڑ کی طرف آنے لگتا ہے۔ان کے پروں کے نیچے چھپے اندھیروں کے مرغولے تیزی سے اڑکر کونے،کھدروں میں لالی کا روپ دھارے روشنی کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔لیکن روشنی کے یہ ذرے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی درخت کے نیچے خود کو سمیٹے جوہڑ کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ ہنس مکمل کالے نہیں ہیں ۔یہ جب اپنے پر اُٹھاتے ہیں تو نیچے ایک سفید حصہ نظر آتا ہے جو اندھیرے میں بجلی کی طرح کوندتا ہوا میری آنکھوں کو چندھیا کر رکھ دیتا ہے ۔اتنی تیز چمک کہ چند لمحوں کے لیے پوری کائنات سفید دھبے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔میں دوبارہ ان ہنسوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جیسے جیسے رات گہری ہوتی جاتی ہے،ان کی حرکات معدوم ہوتی جاتی ہیں۔آخری پہر تو صرف اندھیرا حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔
سورج کی پہلی کرن سے پہلے کالے ہنسوں کا قافلہ جوہڑ خالی کردیتا ہے۔پھر وہاں پانی کے سُست بلبلے ایک پل کے لیے سر اُٹھا کر دوبارہ چھپ جاتے ہیں۔شعاعیں جب جوہڑ سے ٹکرا تی ہیں تو سیاہی مائل پانی اپنے اوپرپھیلی اندھیرے کی چادر ہٹا کر جوہڑ کے کونوں میں دبکے روشنی کے ذروں کو آواز دیتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی تعداد میں سفید ذرات دوڑتے ہوئے جوہڑ کی طرف آتے ہیں کہ تاریکی ٹولیوں کی شکل میں بٹ جاتی ہے ۔میں دیکھ تو نہیں پاتامگر لگتا یہیں ہے کہ وہ آس پاس ہی کہیں ذرات کی شکل میں موجود ہوتی ہے ۔
سفید ہنس سارا دن اس جوہڑ میں رہتے ہیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ وہ بھی جب پر اٹھائیں تو نچلا حصہ سیاہ ہوتا ہے ۔میری نظر اس سیاہی پر پڑ تے ہی ایک پل کے لیے پوری کائنات سیادہ دھبے میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔میں پھر ہنسوں کو دیکھتا ہوں۔
رات دھیرے دھیرے سرک رہی ہے ۔آج میں نے تہیہ کررکھا ہے کہ ان ہنسوں کا پیچھا کروں گا۔دیکھوں گا کہاں جاتے ہیں ۔میں اُٹھ کر جوہڑ کے پاس آگیا ہوں۔بالآخرمشرقی افق پر لالی بکھر گئی ہے ۔پانی میں بیٹھے کالے ہنس اُٹھ کر کھڑے ہوگئے ہیں اور گردنوں کو تاؤ دے کر لالی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک عمر رسیدہ ہنس جوہڑ سے باہر نکلنے لگا ہے، دوسرے اس کی پیروی کررہے ہیں۔ میں تعاقب میں ہوں۔کئی گھاٹیوں ،پگڈندیوں،کھائیوں اورغاروں سے ہوتے ہوئے ہنس ایک ایسی جگہ آگئے ہیں جہاں تاحد نگاہ ایک ہموار علاقہ ہے۔ ایک شخص اس علاقے کے وسط میں بیٹھا ہے جس کے گرد سفید ہنس گیت گارہے ہیں۔اسی پل وہ اتنا مسرور ہوجاتا ہے کہ اسے نیندآجاتی ہے اور شاہانہ انداز میں سو جاتا ہے۔سفید ہنس غمزدہ گیت گاکر اسے جگانے کی سعئ رائیگاں کرتے ہیں۔
میں ایک گھاٹی کے پیچھے چھپ جاتا ہوں۔پھردیکھتاہوں کہ سفید ہنس اس شخص کو اکیلا چھوڑ کر پہاڑی کی دوسری گھاٹی میں غائب ہونے لگتے ہیں۔تب کالے ہنس اس سوئے ہوئے شخص کے وجود پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اورچونچیں مارمار کر اسے لہولہان کردیتے ہیں ۔میں دوڑکر سفید ہنسوں کا پیچھا کرتا ہوں ۔وہ ایک دائرے کی شکل میں سفر کرتے ہوئے اسی جوہڑ پر آجاتے ہیں۔
فارم ہاؤس سے متصل اونچی پہاڑی پہ بیٹھا میں نحیف بدن کے ساتھ اب بھی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں رہی کہ پہروں بیٹھا رہوں۔شک یقین میں بدلتا جارہا ہے کہ ایک دن اس پہاڑی سے لڑھک جاؤں گا ۔میری کمر جھک گئی ہے ۔چہرا جھریوں سے بھر گیا ہے ۔ناک لٹکنے لگی ہے ، کسی کالے یا سفید ہنس کی چونچ کی طرح۔
