Friday, 11 March 2016

پہاڑی پہ بیٹھا ہنس
سید اعظم شاہ


شام کے دھندلکے میں جوہڑ کا سیاہی مائل پانی انگڑائیاں لے رہا ہے ۔لہریں اونگھنے لگی ہیں۔دور کہیں سے کالے ہنس قافلے کی شکل میں جوہڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ابھی ابھی آخری کرن مغربی افق کی طرف بھاگی ہے۔اس کے ساتھ ہی آخری سفید ہنس بھی جوہڑ سے نکل کر دور کہیں درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگیا ہے۔
میں اپنے فارم ہاؤس سے متصل اونچی پہاڑی پہ بیٹھا یہ سب کچھ دیکھتا ہوں۔روز یوں ہی ہوتا ہے۔ لمبی لمبی گردنوں اورسنہری چونچ والے ان ہنسوں کی سریلی آوازوں سے جوہڑ کا سکو ت پل بھر میں ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔سورج کی شعاعیں ان کے سفید پروں سے منعکس ہونے کے بعد سبز ہ زاروں،مرغزاروں،جھرنوں،آبشاروں اور گلزاروں پہ پھدکتی ہوئی شریر مسکراہٹ لیے پہاڑوں کی اوٹ میں چلی جاتی ہیں۔میں نے دیکھا،پہاڑ کی دیو قامت چوٹی بھی ان کی شوخیوں سے ڈر کر سر نیچا کرلیتی ہے۔اور سورج ایک فاتحانہ ہنسی کے ساتھ صبح کی منزل کی طرف روانہ ہوجاتاہے۔
یہ لمحوں کا دورانیہ ہوتا ہے ۔تاریک پرچھائیں ذرا گہری ہونے لگتی ہیں تو کالے ہنسوں کا غول اپنے تھکے ماندے پر جھاڑتا ہواجوہڑ کی طرف آنے لگتا ہے۔ان کے پروں کے نیچے چھپے اندھیروں کے مرغولے تیزی سے اڑکر کونے،کھدروں میں لالی کا روپ دھارے روشنی کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔لیکن روشنی کے یہ ذرے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی درخت کے نیچے خود کو سمیٹے جوہڑ کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ ہنس مکمل کالے نہیں ہیں ۔یہ جب اپنے پر اُٹھاتے ہیں تو نیچے ایک سفید حصہ نظر آتا ہے جو اندھیرے میں بجلی کی طرح کوندتا ہوا میری آنکھوں کو چندھیا کر رکھ دیتا ہے ۔اتنی تیز چمک کہ چند لمحوں کے لیے پوری کائنات سفید دھبے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔میں دوبارہ ان ہنسوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جیسے جیسے رات گہری ہوتی جاتی ہے،ان کی حرکات معدوم ہوتی جاتی ہیں۔آخری پہر تو صرف اندھیرا حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔
سورج کی پہلی کرن سے پہلے کالے ہنسوں کا قافلہ جوہڑ خالی کردیتا ہے۔پھر وہاں پانی کے سُست بلبلے ایک پل کے لیے سر اُٹھا کر دوبارہ چھپ جاتے ہیں۔شعاعیں جب جوہڑ سے ٹکرا تی ہیں تو سیاہی مائل پانی اپنے اوپرپھیلی اندھیرے کی چادر ہٹا کر جوہڑ کے کونوں میں دبکے روشنی کے ذروں کو آواز دیتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی تعداد میں سفید ذرات دوڑتے ہوئے جوہڑ کی طرف آتے ہیں کہ تاریکی ٹولیوں کی شکل میں بٹ جاتی ہے ۔میں دیکھ تو نہیں پاتامگر لگتا یہیں ہے کہ وہ آس پاس ہی کہیں ذرات کی شکل میں موجود ہوتی ہے ۔
سفید ہنس سارا دن اس جوہڑ میں رہتے ہیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ وہ بھی جب پر اٹھائیں تو نچلا حصہ سیاہ ہوتا ہے ۔میری نظر اس سیاہی پر پڑ تے ہی ایک پل کے لیے پوری کائنات سیادہ دھبے میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔میں پھر ہنسوں کو دیکھتا ہوں۔
رات دھیرے دھیرے سرک رہی ہے ۔آج میں نے تہیہ کررکھا ہے کہ ان ہنسوں کا پیچھا کروں گا۔دیکھوں گا کہاں جاتے ہیں ۔میں اُٹھ کر جوہڑ کے پاس آگیا ہوں۔بالآخرمشرقی افق پر لالی بکھر گئی ہے ۔پانی میں بیٹھے کالے ہنس اُٹھ کر کھڑے ہوگئے ہیں اور گردنوں کو تاؤ دے کر لالی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک عمر رسیدہ ہنس جوہڑ سے باہر نکلنے لگا ہے، دوسرے اس کی پیروی کررہے ہیں۔ میں تعاقب میں ہوں۔کئی گھاٹیوں ،پگڈندیوں،کھائیوں اورغاروں سے ہوتے ہوئے ہنس ایک ایسی جگہ آگئے ہیں جہاں تاحد نگاہ ایک ہموار علاقہ ہے۔ ایک شخص اس علاقے کے وسط میں بیٹھا ہے جس کے گرد سفید ہنس گیت گارہے ہیں۔اسی پل وہ اتنا مسرور ہوجاتا ہے کہ اسے نیندآجاتی ہے اور شاہانہ انداز میں سو جاتا ہے۔سفید ہنس غمزدہ گیت گاکر اسے جگانے کی سعئ رائیگاں کرتے ہیں۔
میں ایک گھاٹی کے پیچھے چھپ جاتا ہوں۔پھردیکھتاہوں کہ سفید ہنس اس شخص کو اکیلا چھوڑ کر پہاڑی کی دوسری گھاٹی میں غائب ہونے لگتے ہیں۔تب کالے ہنس اس سوئے ہوئے شخص کے وجود پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اورچونچیں مارمار کر اسے لہولہان کردیتے ہیں ۔میں دوڑکر سفید ہنسوں کا پیچھا کرتا ہوں ۔وہ ایک دائرے کی شکل میں سفر کرتے ہوئے اسی جوہڑ پر آجاتے ہیں۔
فارم ہاؤس سے متصل اونچی پہاڑی پہ بیٹھا میں نحیف بدن کے ساتھ اب بھی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں رہی کہ پہروں بیٹھا رہوں۔شک یقین میں بدلتا جارہا ہے کہ ایک دن اس پہاڑی سے لڑھک جاؤں گا ۔میری کمر جھک گئی ہے ۔چہرا جھریوں سے بھر گیا ہے ۔ناک لٹکنے لگی ہے ، کسی کالے یا سفید ہنس کی چونچ کی طرح۔

Monday, 7 March 2016


گنجائش
سید اعظم شاہ


بارش رکی تو سرد ہوا کا تیز جھونکا اس کے گالوں کو چھو کے گزرا ۔ اس کے پورے بدن میں ٹھنڈک سرایت کرگئی ۔ ٹرین آنے میں اب بھی ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ وہ بینچ پہ بیٹھی سردی سے ٹھٹھرتی رہی ۔ نگاہیں بار بار سامنے کا طواف کرتیں ۔ اتنی موسلادھاربارش کہ اس کی چھتری ٹپکنے لگی تھی ۔
ایک نظر اس نے بیگ کو دیکھا جو اب پوری طرح گیلا ہو چکا تھا ۔ تو کیا وہ سب کچھ گیلا ہوگیا ؟ مانی کی تصویریں ، فائزہ کی کتابیں، سنی کی ویڈیو گیم ، سب پانی ہوگیا ؟ اس نے سوچا۔ پھرٹھٹھرتے ہاتھوں سے بیگ کھولا۔ کتابیں اور تصویریں ایک دوسرے سے چپک گئی تھیں ۔ مانی کا گیلا چہرہ اس پہ ہنس رہا تھا ۔
وہ چند لمحے تصویر کو تکتی رہی، آنکھوں سے دوآنسو نکل کر پلکوں پہ ٹھہرے اور موتیوں کی طرح چمکنے لگے ۔ یکلخت ہوا کا ایک اور جھونکا آیا اور اس کے آنسو اڑتے ہوئے یخ فضا میں تحلیل ہوگئے ۔
" مانی ۔۔۔۔ دد ۔۔۔ دیکھومیری طرف ۔۔۔ دیکھونا ۔۔۔ مانی ۔۔۔ مانی " ۔۔۔ وہ دھیرے سے بولی،ہونٹ کپکپانے لگے ۔
مانی خاموش تھا ۔
زندگی گزرتی ہے تو اپنے ساتھ سب کچھ لے جاتی ہے ۔ اپنائیت کی وہ تمام گھڑیاں، کسی کیفے میں کافی پیتے ہوئے خوش گپیاں، برف پہ سکٹنگ کرتے کسی ہاتھ کا لمس،کچن میں ہنڈیا پکاتے کسی کی آوازیں ، لان میں اٹھکیلیاں کرتا کوئی معصوم وجود ، سب کچھ ۔
اس کی نظریں پھر اوپر اٹھیں ۔۔ رش کم ہوتا جا رہا تھا ۔ 
" خواتین و حضرات ، ٹرین مزید ایک گھنٹہ لیٹ ہے " ۔۔۔۔۔۔ 
لائوڈ سپیکرپر کوئی مکروہ آواز ابھری ۔
ایک جھماکے سے اس کے خیالات کا شیرازہ بکھر گیا ۔ سردی برداشت سے باہر تھی ۔ دانت بری طرح بجنے لگے ۔مسلسل یخ ہواچلنے سے گالوں میں لالی آنے لگی ۔ٹھٹھرتا جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔بھیگی زلفیں بار بار چہرے پہ لہراتیں تو اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ۔ سوچیں منجمد ہونے لگیں ۔
ایک پل کے لیے اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔ موبائل نکالا، نمبر ڈائل کیا،کانوں سے لگایا نہیں کہ بند کر دیا ۔ اس نے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے ۔ پاگلوں کی طرح اسٹیشن پر ٹہلنے لگی ۔
احمد نے آج کورا جواب دے دیا تھا ۔ " طلاق، طلاق، طلاق " کی تین برچھیوں کے وار سے اس کے ارمان ابھی تک خون آلود تھے ۔ بہت منت سماجت کی، اللہ کا ،رسول کا، امی کا،ابا کا،نانی کا، بچوں کا، کون سا واسطہ تھا جو اس نے نہیں دیا ۔ وہ نہیں مانا ۔
" طلاق نام کے کپڑے بدلتے فیشن کی طرح ہیں کیا؟ ۔۔ جب چاہا اتاردیے، جب من میں آیا ،پہن لیے " ۔۔ 
وہ دونوں ہاتھ باندھ کر دور ریل کی پٹڑی پہ نظر دوڑانے لگی ۔ دھندگہری ہونے لگی تھی ۔
یہ احمد سےشادی تھی یا کوئی ہوا کا جھونکا تھا ،آیا اور گیا ۔ تین سال میں تین بچوں کی پیدائش ہی ہوئی ؟ ۔۔ اور کیا تھا ۔ بچے بھی کم مسئلہ تھے؟ ۔ وہ ہر وقت انہیں مارتا ۔ ساری مدت تو انہیں چپ کراتے کراتے بیت گئی ۔
" دیکھو جان ۔ میں تمہارے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔ میں زمانے کی ہر رکاوٹ سے ٹکراجائوں گا ،لیکن تمہیں حاصل کرکے ہی دم لوں گا " ۔۔ 
احمد نے ایک دن کیفے میں کافی پیتے پیتے جذباتی انداز میں کہا تھا ۔
" لیکن ابو اور امی کو کون منائے گا " ۔۔۔۔
" ارے پگلی ۔۔۔ وہ میرا کام ہے ۔۔ تو چھوڑ ۔۔ بس میرا ہاتھ تھام " ۔۔۔۔ 
" سچ ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے شرماتے ہوئے احمد کی آنکھوں میں جھانک کر کہا ۔
اور اس نے امی ابو کو منا بھی لیا ۔
" بہت اچھا لڑکا ہے ۔ ڈھنگ سے باتیں کرتا ہے ۔ اور شریف بھی " ۔ امی خوش تھیں ۔
" کاروبار بھی ہے ۔ لڑکی کی زندگی بن جائے گی " ۔ ابا نے تائید کی ۔
وہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی سب سن رہی تھی ۔ چہرے پر حیا کی لالی مزید گہری ہوتی گئی ۔
اس رات احمد نے ڈھیر ساری باتیں کیں ۔ اتنا پیار؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ سمیٹ نہ پائوں ؟ ۔۔۔ اسے خوشگوار حیرت نے آلیا ۔ زندگی ایک ایسے حسین مرحلے میں داخل ہوگئی جس کا ایک ایک پل وہ جینا چاہتی تھی ۔
وہ روزانہ وہ اسے دعوت پہ باہر لے جاتا ۔ خوب ہنسی مذاق ہوتا ۔
ایک دن برف باری ہو رہی تھی ۔ احمد اور وہ قریبی پہاڑی پر چلے گئے ۔ وہ آگے آگے بھاگ رہی تھی اور احمد پیچھے پیچھے ۔ برف کے گولوں سے کھیلتے کھلیتے وہ پہاڑی کے آخری سرے پر آگئی ۔ پائوں پھسلا، قریب تھا کہ گہری کھائی میں گرجاتی ،احمد نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کے حلق سے ایک بلند چیخ نکلی تھی ۔
" آجائو ۔۔۔ آجائو ۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے والا " ۔۔ احمد نے اسے بازو سے پکڑ کے کھینچا ۔
" اگر تم مجھے نہ تھامتے تو ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" تو تم گر جاتی " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" پھر کیا ہوتا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" پھر کیا ہوتا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ مرجاتی " ۔۔۔۔۔
" You " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اب احمد آگے آگے تھا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ۔۔۔۔ پوری پہاڑی قہقہوں کی لپیٹ میں آگئی ۔
" تم میرا ہاتھ کبھی چھوڑو گے تو نہیں ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔ بھاگتے بھاگتے اچانک اس نے احمد کو پکڑ لیا ۔
" کبھی نہیں ۔۔۔۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔
" مجھے کبھی کبھی ڈر لگتا ہے " ۔۔۔ 
" ارے پگلی ۔۔ یہ ڈرنا ورنا چھوڑو ۔۔۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔۔ ہمیشہ " ۔۔۔ احمد نے کہا ۔
اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے ۔ ٹرین آنے میں اب بھی تاخیر تھی ۔ مارے سردی کے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔
" بچے تو میرے حوالے کردیتا " ۔۔۔ 
وہ روہانسی ہوگئی ۔ جاتے جاتے سنی کی ویڈیو گیم، مانی کی تصویریں اور فائزہ کی کتابیں جلدی سے بیگ میں ٹھونسیں اور نکل آئی ۔ 
محبت کتنی جھوٹی ہوتی ہے ۔۔ سچ کتنا جھوٹا ہوتا ہے ۔۔ پہاڑوں پر جھوٹ کی برف باری ہوتی ہے ۔۔ کیفے میں جھوٹ کی کافی پی جاتی ہے ۔۔ یہ ننے منھے بچے بھی جھوٹ ہیں ۔ میرے امی، ابو بھی جھوٹی باتیں کرتے ہیں ۔۔ دو گھنٹے ہو گئے ۔ جھوٹ ہے سب ۔۔ ٹرین نہیں آئے گی ۔ سب جھوٹ ہے ۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر واپس بینچ پر بیٹھ گئی ۔
طلاق
طلاق 
طلاق
اس کے کانوں کے پردے پھٹنے لگے ۔ مانی کے رونے کی آواز، ویڈیو گیم کی ٹھک ٹھک ۔۔۔ فائزہ کی ہنسی ریلوے اسٹیشن تک اس کا تعاقب کررہی تھیں ۔۔ وہ ایک بار پھر اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔موبائل فون نکالا، نمبر ڈائل کیا، گھنٹی بجی مگر دوسری جانب خاموشی کا تسلط تھا۔ 
" اٹھائو فون ۔۔۔ کیوں نہیں اٹھاتے ۔۔ اٹھائو ۔۔ ہمت ہے تو اٹھا کے دکھائو" ۔۔
وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی ۔
" ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ " پاس سے گزرتے دو بچے ہنسے ۔
اچانک فون کی گھنٹی بجی ۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے موبائل کان سے لگایا ۔
" اے ہے نسریں ۔۔۔ یہ تو بہت برا ہوا ۔۔ تجھے طلاق ہوگئی ؟ ۔۔۔۔ ہائے کتنی بے عزتی کی بات ہے ۔۔ دوسری جانب غزالہ آپا کی آواز سنائی دی ۔
کوئی عورت درمیان میں بولی۔ مجھے دے ۔۔ مجھے دے ۔۔۔ نسرین ہے ؟ ۔۔۔ میری بھی بات کرا " ۔۔ ۔
" ارے نسرین ۔۔۔ ایسا بھی کیا تھا ۔۔۔ تجھ سے ایک گھر نہ بسایا جا سکا ؟ ۔۔۔ اف ۔۔۔ تجھے طلاق ہوگئی ؟ ۔۔۔۔ ساری زندگی والدین کے گھر رہے گی ۔۔۔ اف ۔۔ ہمیں افسوس ہوا "۔۔۔۔۔
" اری بہن ۔۔ میری بھی بات کرا " ۔۔
" میری بھی " ۔۔۔۔
" میری بھی " ۔۔۔۔
" ارے میں رہ گئی ۔۔۔ میری بھی کرا بات اس سے " ۔۔۔۔
وہ چکرا کررہ گئی ۔ موبائل فون ہاتھ سے گر پڑا ۔
دور سے ٹرین آتی دکھائی دی ۔۔
" آگئی ۔۔ آگئی " ۔
ایک ساتھ کئی آوازیں اس کے کانوں پہ پڑیں ۔ اس نے ایک پل پیچھے مڑکے دیکھا ۔۔ مانی، فائزہ اور سنی کے ہیولے اسے حسرت سے دیکھ رہے تھے ۔
" محترمہ ۔۔ ٹرین آگئی" ۔۔۔ ایک آدمی نے اسے یاد دلایا ۔
اس نے مردہ ہاتھوں سے بیگ اٹھایا، مانی کی تصویر دل سے لگائی اور ٹرین کی طرف بڑھنے لگی ۔
ماضی ایک فلم کی طرح اس کے ذہن میں چل رہا تھا ۔ اسے لگا فائزہ،سنی اور مانی سامان اٹھائے اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ ہر طرف سے برف کے گولے آکر اس کے چہرے پہ لگتے ۔ گرم گرم کافی کی خوشبو اس کی ٹھنڈک دور کرنے لگی ۔ 
ابھی ٹرین میں قدم نہیں رکھا تھا کہ اس کے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھا ،مڑکر دیکھا تو احمد کھڑا تھا ۔
" تم ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔
" ہاں ۔۔۔ میں طلاق واپس لینا چاہتا ہوں ۔۔۔ ابھی ابھی مجھے کسی نے بتایا، ایسا ہوسکتا ہے،صرف چھوٹا سا شرعی مسئلہ آڑے آرہا ہے ۔۔۔ کسی مولوی کے ٌپاس جانا پڑے گا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد ایک ہی سانس میں کہتا گیا ۔