Thursday, 25 February 2016

بگلے

سید اعظم شاہ


سمندر کے گہرے پا نیو ں کی نیلاہٹ پہ بگلوں کی اڑان ایک سفید لکیر بنا تی چلی جا رہی ہے۔نیلے آسمان پر روئی کے ٹکڑے کبھی کبھی جھک کر کروٹیں بدلتی لہروں کو چومنے لگتے ہیں۔۔دور ایک سبز چادر ہے جس پر تتلیاں اٹھکیلیاں کر رہی ہیں۔فرطِ مسرت سے سورج مکھی نکھر کر پھیل گئی ہے۔تاحد نگاہ زمین کی گود میں قدرت لیٹی ہے جس کی سحرانگیزی کے جلوے لہروں کو چیرتے ہو ئے،آبشاروں پہ پھسلتے ہو ئے ،آسمان کو چھیدتے ہو ئے ،سبزے پہ پھدکتے ہو ئے اور پہاڑوں سے سرکتے ہو ئے آنکھوں سے ٹکرا رہے ہیں۔
بگلے بہت آوارہ ہو تے ہیں!
ہاجرہ مسلسل اسے دیکھے جا رہی ہے۔ڈر ہے ذرا آہٹ ہو ئی تو نیند کا غلبہ ٹوٹ جا ئے گا۔اس کے رت جگوں میں سو ئی ہو ئی آنکھوں کے ارمان ہیں۔بالوں کی سیا ہ لٹ میں اندھیری را توں کی بے سکو نی ۔پیشانی پہ شباب کے با جود بے ترتیب جھریاں اس کی غم خواری کا پتہ دے رہی ہیں۔وہ ایک گیلے تو لیے سے اس کا سر ڈھا نپنا چا ہتی ہے اور وہ انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔بگلے پھرُ سے اڑ جا تے ہیں۔
یہ ایک نسبتاََ ٹھنڈا کمرا ہے۔صبح کے نوبجنے کو ہیں۔اکتوبر کے سورج میں ہلکی سی تپش بھی ہے اور ٹھنڈک بھی۔بستر کے ایک کو نے میں فیڈر پڑا ہے جس کے اندر دودھ کی الٹی سیدھی دھاریں ہیں اور اوپرمکھیوں کی بھنبھنا ہٹ۔ایک دوائی کی بو تل ہے ۔پاس ہی پڑی چمچ میں اتنی چکناہٹ ہے کہ چادر اس سے چپک کر رہ گئی ہے۔
آنکھوں میں رو تی ہو ئی خوشیاں لیے وہ نیند سے بیدار ہو چکا ہے۔پھرایسے بلک بلک کے رو تا ہے کہ اسے چپ کرا نے کاہر ممکن جتن را ئیگاں جا تاہے۔قے ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی ۔اسے دنیا میں آئے آج تیسرا دن ہے۔چہرے پر بے پایاں نا دا نی ،ایک سرا پا معصومیت کہ قوسِ قزح کے رنگوں میں لپٹاہے۔آنکھ لگتے ہی بگلوں کو اڑتا دیکھتا ہے۔
ہا جرہ فیڈر دو دھ سے بھر تی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوفناک گڑا گڑا ہٹ۔
زمین کے سینے پر پڑے بوجھ پل بھر میں میں الٹ پلٹ ہو جا تے ہیں۔گھر ،دکان،ہوٹل،سکول،دفتر،ہسپتال،سرائے،بازار،مارکیٹ،سڑک سب ایک دوسرے میں گڈ مد ہو چکے ۔کھیت سانپوں کی طرح رینگ رہے ہیں۔کہیں چھت نہیں تو کہیں دیوار۔اور کہیں زمین نے اپنے جبڑے کھول رکھے ہیں۔ایک جگہ مٹی کے ڈھیلے اور دوسری جگہ اینٹوں اور پتھروں کا ڈھیر۔ایک طرف ہا تھ دکھا ئی دے رہا ہے اور دوسری طرف شکستہ ٹانگیں۔گرد اور خون کی لالی کا ملاپ بھی ہے اور سسکیوں کا غبار بھی۔یہ سکول ہیں یا موہن جودڑو کے کھنڈرات؟یہ ہسپتال ہیں یا میدان جنگ میں تباہ ہونے وا لے قلعے؟ مکان کے مکان بیا بان ہیں ۔ایک قیامت صغریٰ ہے جس نے محلے کے محلے،گا ؤں کے گاؤں اور شہر کے شہراپنی لپیٹ میں لے لیے ہیں۔ہر نگاہ متلا شی ،ہر لاش پہ اپنا ہو نے کا گمان ہے۔کسی کے ہا تھ بازو آتا ہے تو کسی کے ہاتھ ٹانگ۔کسی کو دھڑ ملتا ہے تو کسی کو کانوں کی با لیاں۔سکولوں کے ملبے سے ٹفن،کتابیں،جوتے،قلم،بستے بر آمد ہو رہے ہیں۔ تباہ شدہ دفتروں سے گرد سے اٹی فائلیں نکل رہی ہیں۔سبزی منڈیوں،بازاروں میں کپڑے،ٹماٹر،چاول اور انسان بکھرے پڑے ہیں۔ہسپتالوں میں کفنوں کے انبار اور زخموں سے چور چور بدن ہیں۔انسانیت کی چیخ و پکار سے پہاڑ،پگڈ نڈیاں،جنگل اور دریا دہل کر رہ گئے ۔ آسمان کے آنسو ٹپ ٹپ زمین پر گر نے لگے ہیں۔سڑکوں پر گاڑیاں رک چکی ہیں اور زندگی بھی ٹھہر گئی ہے۔
ہاجرہ کراہ رہی ہے۔اس کا چہرہ خون آلود ہے۔بالوں کی لٹ اجڑ چکی ۔ہاتھ اور ٹانگیں اپنی نہیں رہیں۔ملبے کے ڈھیر میں دفن وہ زندگی کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔پاس ہی فیڈر ہے جو پتھروں سے کچلا جا چکا ہے۔دوائی کی بوتل ٹوٹ گئی ۔چمچ ٹیڑھی ہو چکی ہے۔وہ چیختی ہے،چلا تی ہے اور مدد کے لیے پکا رے جا رہی ہے۔ایک ساعت کے لیے مڑ کے دیکھنا چا ہتی ہے مگر سر میں سکت نہیں رہی۔جسم باغی ہو چکا ہے ' اپنے بیگانے ہیں۔یکایک اس کے کا نوں میں رو نے کی آواز پڑتی ہے مگر۔۔۔۔۔فیڈر کہاں ہے؟۔۔۔وہ ایک بار پھر مڑنا چا ہتی ہے،اس کی طرف دیکھناچا ہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے دنیا میں آئے آج تیسرا دن بھی ختم ہو نے کو ہے۔پتھروں کے بستر پہ لیٹا زارو قطاررو ئے جا رہا ہے ۔فیڈر خاموش ہے اور مامتا گونگی۔رو رو کے تھکتا ہے تو آنکھ لگ جا تی ہے۔
بگلے اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔آبشاریں اسی طرح ترو تا زہ۔بادل روئی کے ٹکڑوں کی طرح فضاء میں تیر رہے ہیں۔ہر طرف سبزہ ہے۔سورج مکھی اسی طرح حسین۔۔ماں اسے پیار سے گود میں لیتی ہے اور فیڈر سے دودھ پلا نے لگتی ہے۔اس کا فیڈر ٹوٹا ہوا نہیں ۔بالکل نیا ہے۔دوا ئی اور چکناہٹ وا لی چمچ بھی پاس ہی ہے۔مامتا اور اس کی چھوٹی چھوٹی دنیا ئیں اسی طرح خوبصورت ہیں۔بگلے اڑے چلے جا رہے ہیں۔

1 comment: