Thursday, 9 August 2018

کونج



رات جب بیت جائے تو سورج کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے آسمان پر آخری ستارہ کتنا تنہا نظر آتا ہے! ویسے ایک بات ہے،لوگ دن کی روشنی کو کتنا پسند کرتے ہیں۔توکیا انہیں کالے آسمان پر ستاروں کا میلہ دکھائی نہیں دیتا؟ہر طرف جب گھُپ اندھیرا چھا جائے توآسمان کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ روشنی کے لیے اندھیرا بھی توضروری ہے نا!دن لاکھ اچھا سہی مگرکرن اندھیرے کے بطن سے ہی تو نکلتی ہے۔
بچپن میں ہمیں بھی راتیں اچھی لگتیں۔چھوٹے بڑے سب صحن میں چارپائی پر لیٹے آسمان پر ستارے گن رہے ہوتے۔دادی اماں آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہتیں:
’’بیٹا۔چندا ماموں اپنے بچوں کو لے کر آگئے‘‘۔۔
ہم بڑے اشتیاق سے دیکھتے۔تاحد نگاہ کالے آسمان پر چاند ستاروں کے جھرمٹ میں گھرا ہوتا۔اور پھر ہم دادی اماں کو دیکھتے، ایک نظر پورے خاندان پر دوڑاتے۔ ایسے معلوم ہوتاجیسے دادی چاند ہواور باقی سب ستارے۔ہمارا صحن ایک کالا آسمان لگتا۔
گرمیوں میں تو صحن میں ہی سو جاتے۔پاس ہی مرغیوں کا ڈربہ ہوتا۔ساری رات پھڑپھڑاہٹ کی آواز کانوں سے ٹکراتی رہتی۔کبھی کبھی کوئی بلی چھلانگ مار کر چارپائی کو عبور کرتی تو ہمارے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھنے سے چارپائی چرچرا اٹھتی۔
’’سو جاؤ بچو۔ابھی فجرکی اذان بھی نہیں ہوئی‘‘........... اچانک دادی کی نحیف آواز بلند ہوتی۔وہ نیند کی حالت میں بھی گردو نواح سے باخبر رہتی تھیں۔اور ہم اکثر ایک دوسرے سے کہتے:
’’یہ دادی سوتی نہیں کیا‘‘۔
سوتا تو چاند بھی نہیں۔ساری رات سوئے ہوئے ستاروں کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔روشنی بھی کرتا ہے۔یہ روشنی شاید ہمارے لیے اہم نہ ہولیکن اس کی قدروقیمت وہ کونج ہی بتاسکتی ہے جو ڈار سے بچھڑی ہو۔
کُونج سے یاد آیا، ہمارے گھر کے قریب ایک ندی تھی۔اُس میں کونجیں آکر نہاتیں۔ہماری دیرینہ خواہش رہی کہ ان میں سے ایک کونج کو پکڑتے۔لیکن یہ خواہش حقیقت کا رُوپ نہ دھار سکی۔ہاں۔ایک شام ایسا ہوا کہ کوئی کونج ڈار سے بچھڑ کر گرتی پڑتی ہمارے گاؤں کی عقبی جانب پگڈندی میں اُتر گئی۔غالباََ تھکن سے نڈھال ہوچکی تھی۔میں گھر کی چھت پہ کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔اگلے ہی لمحے جونی،کامی،مودی غرض جو جو زبان پر آیا، سب کو آواز دی۔
’’کیا ہوا۔ کیا ہوا‘‘............. وہ پل بھر میں آنمودار ہوئے۔
’’کونج۔کونج‘‘......... میں چلا رہا تھا۔
’’کہاں ہے‘‘.......... وہ یک زبان ہوکر بے قراری سے بولے۔اور میرے اشارہ کرنے پر ایسے پگڈ ندی کی طرح دوڑے جیسے سکول میں سومیٹر ریس کے دوران بچے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر کونج نے سب کو دوڑایا۔ایک درخت سے دوسرے درخت پہ جابیٹھتی۔بالآخر تھک ہار کر سب اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔
میں واپس گھر کی چھت پر آگیا اوررات گئے تک اس پگڈندی کو دیکھتا رہا۔آسمان پر چودھویں کا چاند چمک رہا تھا۔چاندنی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔دفعتاََ مجھے آسمان پر کونجوں کی ڈار دکھائی دی۔جب وہ پگڈندی عبور کرنے لگی تو ایک درخت سے وہی سفید کونج اڑی اور ڈار سے جاملی۔
اُس رات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ کونجیں ڈار کی شکل میں کیوں اُڑتی ہیں۔اور آسمان پر چاند کیوں چمکتا ہے۔
میں آج کل بلند و بالا عمارات سے مزین شہر میں رہتاہوں۔رات کو اتنی روشنی ہوتی ہے کہ اندھیرے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔اکثر خیال آتا ہے کہ شہر دن کی روشنی کو دوام بخشنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ہر طرف ایک نہ ختم ہونے والی چہل پہل ہے۔دمکتے چہرے ہیں۔شہنائی ہے۔گاؤں میں تو سہ پہر کے بعد چیزیں سمٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔گھنے برگد پر الو بولنے لگتے ہیں۔مکئی کی سرسراتی ہوئی فصل ساکت ہوجاتی ہے۔جھینگرساز بجانے لگتا ہے۔لوگ اذان سے پہلے گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔کچے راستوں پر چڑیلیں گشت کرنے لگتی ہیں اور درخت سو جاتے ہیں۔کم ازکم شہر اس ’’نحوست‘‘ سے پاک ہے۔نہ یہاں جھینگر ہے نہ مکئی کی فصل۔نہ آپ کوالو تنگ کرسکتا ہے نہ راستے میں کسی چڑیل سے سامنا ہوسکتا ہے۔
میری دادی کب کی جاچکیں۔ان کی قبر پر جھاڑیاں اگ چکی ہیں۔والدہ کی ٹوٹی پھوٹی قبر بھی ان کے ساتھ ہے۔والد بوڑھے ہوچکے،ٹانگیں کمزور ہوگئیں مگر لاٹھی سے آج بھی غیرت کھاتے ہیں۔بھائی میری طرح شہروں کے ہو کر رہ گئے۔کوئی دوبئی چلا گیا، کوئی امریکا کو مسکن بنا گیا۔بہنوں کی شادی ہوگئی۔ایک گھر سے کئی گھر بن گئے۔
مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب میرا اپنی باجی سے جھگڑا ہوا۔ہم چھپن چھپائی کھیل رہے تھے۔جھگڑا اس بات پر ہوا کہ میں نے بیس تک گنا ہی نہیں۔دس،گیارہ،بارہ کرکے باجی کو ڈھونڈنے چلا۔وہ ابھی چھپنے کی تیاری کرہی رہی تھی کہ میں نے ’’حملہ‘‘ کہہ کرفاتحانہ انداز میں شور مچا دیا۔
’’نہیں۔نہیں۔ یہ فاؤل ہے۔تم نے بیس تک گنا ہی نہیں‘‘...... باجی احتجاج کرنے لگیں۔ہم دونوں کا جھگڑا طول اختیار کرنے لگا تھا کہ امی نے بیچ بچاؤ کرایا۔
’’بیٹا۔تم نے بیس تک کیوں نہیں گنا؟۔ہمیشہ اصول رکھا کرومیرے بچے۔بے اصول زندگی گزارو گے تو گئے دنوں پر پچھتاؤ گے‘‘........ ان کا انداز ناصحانہ تھا۔
آخری عمر میں بیمار رہنے لگی تھیں۔
ایک رات میں امی کے ساتھ صحن میں بیٹھا ہوا تھا۔یہ ایک خوشگوار رات تھی۔سرد ہوا چلنے سے رُوح کے اندر شادیانے بج رہے تھے۔امی ٹکٹکی باندھے ستاروں سے بھرے کالے آسمان کو دیکھتی رہیں۔پھر مجھ سے مخاطب ہوئیں:
’’بیٹا! موت زندگی کی دشمن ہے‘‘۔
’’جی امی........ تو‘‘۔۔۔ مجھے جیسے کچھ نہ سمجھ آیا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہیں۔پھر طویل سانس لے کر بولیں:
’’لیکن موت ہمارا ایک ایک سانس تحمل سے گنتی ہے۔جلدی نہیں کرتی‘‘.......
’’جی امی‘‘..... میں نے نظریں جھکا کرکہا۔
صحن میں جیسے پراسرا ر خاموشی پھیل گئی۔میں نے بے اختیار خالی چارپائی کی طرف دیکھا۔یہ وہی چارپائی تھی جس پر رات کو دادی اماں بیٹھا کرتی اور پورے خاندان کے اجلاس کی صدارت کیا کرتی تھیں۔
واقعی موت نے امی کی زندگی کے پوری طرح گنے اور ایک دن وہ چپکے سے اس دنیا سے چلی گئیں۔دادی اماں کے معاملے میں بھی موت نے اپنا اصول نہیں چھوڑا تھا۔
آج بیس سال بیت گئے۔میری حالت پہلے سے زیادہ سُدھر چکی ہے۔عالیشان بنگلے میں رہتا ہوں۔مجھے اب صحن میں نہیں سونا پڑتا۔میرا کمرا ائیر کنڈشنڈ ہے، مچھروں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اندر آسکیں۔میری میز پر اب ٹوٹی ہوئی صراحی کے بجائے منزل واٹر پڑا ہے۔اور ہاں۔اب میرا واسطہ مرغیوں کی پھڑپھڑاہٹ اور بلیوں کی مٹر گشت سے بھی نہیں۔گداز بستر پر سکون کی نیند سوتا ہوں۔پھر بھی کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں تحمل سے بیس تک نہیں گن رہا۔میں ڈار سے بچھڑی ہوئی وہ کونج ہوں جسے ان بلند وبالا عمارات کی رنگ برنگی روشنیوں میں کالا آسمان دکھائی نہیں دیتا۔

2 comments:

  1. Very lovely haqeeqt per mabni afsana. Hum sab us konj ke manand hain jo apni daar say bichar chuki hai aur phir bees tak ginti be tu nahi ghin rahy. Buhat jaldi mein hain sab. Mout he agar manzil hai tu jaldi kahy ke...!

    ReplyDelete